کسان اور واٹر آرمی کے لیڈر پرفل کدم نے حکومت سے ممبئی -پونے مسنگ لنک کی طرز پر واٹر لنک پروجیکٹ تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 12:26 PM IST | Siraj Sheikh | Ratnagiri
کسان اور واٹر آرمی کے لیڈر پرفل کدم نے حکومت سے ممبئی -پونے مسنگ لنک کی طرز پر واٹر لنک پروجیکٹ تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
ممبئی-پونے مسنگ لنک کی طرز پر کسان آرمی اور واٹرآرمی کے لیڈر پرفُل کدم نے ریاستی حکومت کو ایک بڑے ’واٹر لنک ٹنل‘پروجیکٹ کا تاریخی منصوبہ پیش کیا ہے تاکہ شمالی کوکن میں سمندر کی طرف بہنے والے اضافی سیلابی پانی کو مغربی گھاٹ کے ذریعے قحط سالی سے متاثرہ علاقوں میں منتقل کیا جائے۔ پرفل کدم نے تجویز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شمالی کوکن سے۲۴۹ء۴۳؍ ٹی ایم سی اضافی پانی کو اس چینل کے ذریعے مغربی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ تک لایا جا سکتا ہے اور اسے جنوب میں کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ واضح ہو کہ خطہ کوکن میں بے انتہا بارش ہوتی ہےاور ہر سال جون- جولائی میں بڑی مقدار میں پانی ملتا ہے۔ اسی مدت کے دوران مغربی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ کے علاقوں کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ایس آئی آرکی تمام گڑبڑیاں درست کی جائیں‘‘
پرفل کدم نے کہا کہ اگر شمالی کوکن میں اضافی سیلابی پانی کو کوکن سے براہ راست مغربی گھاٹ کی طرف سرنگوں کے ذریعے موڑ دیا جائے تو دونوں خطوں میں پانی کا مسئلہ کچھ حد تک حل ہو سکتا ہے۔انہوں نے ایک مکتوب کے ذریعے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تجویز کا تکنیکی، ہائیڈرولوجیکل اور اقتصادی مطالعہ کرنے کے بعد شمالی کوکن سے اضافی پانی کو مشرق کی طرف موڑنے کیلئے ’ واٹر لنک ‘ پروجیکٹ پر غور کریں۔
یہ بھی پڑھئے:پونے: ایم پی ایس سی امتحان میں بے ضابطگیوں کیخلاف زبردست احتجاج
گھاٹوں کے اوپر سے پانی کو موڑنے کے روایتی تصور کی بجائے کوکن سے پانی کو براہ راست مشرق کی طرف سرنگوں کے ذریعے موڑنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ممبئی-پونے مسنگ لنک کی طرز پر سرنگیں کھود کر پانی کو مغربی گھاٹ کے ایک طرف سے براہ راست دوسری طرف موڑا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے تجویز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ شمالی کوکن کے مختلف دریاؤں اور وادیوں سے بہنے والے اضافی پانی کا مطالعہ کرنے کے بعد ’واٹر لنک ٹنل‘ کو ڈیزائن کیا جائے۔
پہاڑوں کے اوپری حصے سے پانی کو موڑنے کے سابقہ تصورات اور منصوبوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے حکومت کو ایک منصوبہ تجویز کیا گیا ہے کہ کوکن بیس سے پانی کو سرنگوں کے ذریعے براہ راست مشرق کی طرف موڑ دیا جائے۔ کسان آرمی اور واٹر آرمی کے بانی پرفل کدم نے کہاکہ کوکن سے اضافی پانی کو مشرق کی طرف موڑنا مہاراشٹر حکومت کیلئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔