تعلیم،بدعنوانی،ذات پات پرمبنی تفریق،صحت ،مزدوروں کے حقوق،کسانوں کے مسائل،خواتین کے تحفظ،اراضی کے معاملات جیسے سلگتے مسائل پر اس وقت ملک بھر میں مظاہرے کئےگئے یا کئے جارہے ہیں جن کا اندراج راہل گاندھی کے ’ستیہ گرہ‘ پلیٹ فارم پر کرایا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 12:03 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi/Mumbai
تعلیم،بدعنوانی،ذات پات پرمبنی تفریق،صحت ،مزدوروں کے حقوق،کسانوں کے مسائل،خواتین کے تحفظ،اراضی کے معاملات جیسے سلگتے مسائل پر اس وقت ملک بھر میں مظاہرے کئےگئے یا کئے جارہے ہیں جن کا اندراج راہل گاندھی کے ’ستیہ گرہ‘ پلیٹ فارم پر کرایا گیا ہے۔
لوک سبھا کے حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے سنیچر کو شروع کیا گیا ’ستیہ گرہ پلیٹ فارم‘ مقبولیت حاصل کررہا ہے۔دو دن میں تقریباً۲۵؍ہزار۵۵؍ مظاہروں کا اندراج ہوچکا ہے۔اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ہر ہندوستانی اپنے اُس مسئلے یا جدوجہد کے بارے میں لکھ سکتا ہے جس کا وہ سامنا کر رہا ہے۔کانگریس کی جانب سے ایکس پر لکھا گیا کہ ’’صرف۲۴؍گھنٹوں میں۲۸؍ ریاستوں اور۸؍مرکزی زیرِ انتظام علاقوں سے۲۲؍ہزار۲۳۶؍گروپس نے اپنی آواز درج کرائی۔ یہ نہ تو سروے تھے، نہ نعرے۔یہ حقیقی جدوجہد، حقیقی مقامات اور حقیقی لوگوں کی آوازیں تھیں۔ ان میں سے۴؍ہزار۲۹۷؍ گروپس ایسے تھے جو تعلیم کے مسئلے پر احتجاج کر رہے تھے اور اپنی آواز بلند کر رہے تھے۔ آپ کے ضلع سے بھی کسی نے پہلے ہی اپنی آواز درج کرا دی ہے۔کیا آپ نے بھی اپنی آواز درج کرائی؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: شیخ حسینہ کو پناہ دینا ہماری ذمہ داری، وہ اس وقت وزیر اعظم تھیں: ہندوستانی سفیر
ستیہ گرہ پلیٹ فارم کیا ہے
راہل گاندھی نے کہا ’’ جہاں سچائی کو دبایا جا رہا ہے‘‘ وہاں اس پلیٹ فارم کے ذریعے لوگوں کی مدد کی جائے گی ۔ مہاتما گاندھی کے۱۵۷؍ ویں یوم پیدائش کے ایک دن بعد شروع کردہ اس پلیٹ فارم کو جاری کرتے ہوئے راہل گاندھی نے عوام سے اپنے احتجاج کی تفصیل مذکورہ پورٹل پر درج کرنے کی اپیل کی اور وعدہ کیا کہ وہ احتجاج کرنے والوں کی مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ سچائی کو دبنے نہ دیا جائے۔ اس تعلق سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ملک بھر میں لوگ اپنے حقوق کیلئے لڑ رہے ہیں، لیکن اکثر انہیں تنہا جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ جنریشن زی، طلبہ، کسان، آدیواسی، دلت اور خواتین سمیت ہر طبقے کی اپنی جدوجہد اور اپنی کہانی ہے، لیکن تنہا اٹھنے والی آواز کو دبانا آسان ہوتا ہے۔ ’ستیہ گرہ‘ کا مقصد ان تمام آوازوں کو ایک ہی نقشے پر یکجا کرنا ہے۔‘‘