متعدد غیر قانونی عمارتیں تعمیر کرکے فلیٹس فروخت کرنے والا بلڈر گزشتہ ۲؍سال سے مفرور تھا۔
EPAPER
Updated: June 08, 2026, 12:06 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
متعدد غیر قانونی عمارتیں تعمیر کرکے فلیٹس فروخت کرنے والا بلڈر گزشتہ ۲؍سال سے مفرور تھا۔
جعلی دستاویزات کی بنیاد پر سرکاری اور مختص کردہ پلاٹس پر غیر قانونی عمارتیں کھڑی کرنے والے بدنام زمانہ بلڈر کو پولیس نے ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا ہے۔ پچھلے ۲؍ برسوں سے روپوش اس مفرور بلڈر کو کرائم برانچ اور مقامی پولیس کی مشترکہ ٹیم نے فلیٹ کے اندر موجود ایک الماری سے برآمد کیا جہاں وہ خود کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ پولیس نے ملزم کو کلیان کورٹ میں پیش کیا جہاں اسے ۸؍ روز پولیس میں تحویل میں رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔
سنیچر کی شب کلیان کرائم برانچ یونٹ -۳؍ کے سینئر پولیس انسپکٹر اجیت شندے کو ایک مخبر کے ذریعے خفیہ اطلاع موصول ہوئی کہ ۱۲؍ سنگین مقدمات میں مطلوب مفرور ملزم سلمان ڈولارے دودھ ناکہ کے قریب واقع کھوٹال منزل نام کی عمارت کی چوتھی منزل پر ایک فلیٹ میں چھپا ہوا ہے۔ اطلاع ملتے ہی کلیان کرائم برانچ، بازار پیٹھ پولیس اسٹیشن اور مہاتما پھلے پولیس اسٹیشن کے اعلیٰ افسران نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ فلیٹ پر چھاپہ مارا۔
ابتدائی تلاشی کے دوران فلیٹ میں ملزم کا کوئی سراغ نہیں ملا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ جائے وقوعہ سے فرار ہو چکا ہے۔ تاہم تلاشی کے دوران ایک پولیس اہلکار کی نظر کمرے میں موجود ایک بڑی الماری پر پڑی۔ الماری کھولنے پر سلمان ڈولارے اس کے اندر چھپا ہوا پایا گیا۔ پولیس نے فوری طور پر اسے حراست میں لے کر مزید قانونی کارروائی شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھئے: واٹر ٹینکرز اسوسی ایشن کا خدمات معطل کرنے کا اعلان
ذرائع کے مطابق سلمان ڈولارے اور اس کے ساتھیوں پر کلیان اور مضافاتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات کا جال بچھانے کے الزامات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فرضی اور جعلی دستاویزات کی بنیاد پر ریزروڈ پلاٹس پر متعدد کثیر منزلہ عمارتیں تعمیر کی گئیں جن میں یوسف ہائٹس اور مریم ٹاور بھی شامل ہیں۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ان متنازع عمارتوں سے متعلق میونسپل کارپوریشن کے سرکاری ریکارڈ کی اہم فائلیں بھی غائب ہو چکی ہیں۔ اس معاملے میں بازار پیٹھ پولیس اسٹیشن میں سرکاری دستاویزات کی چوری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ غیر قانونی عمارتوں میں سیکڑوں متوسط طبقے کے خاندانوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر فلیٹ خریدے ہیں۔ الزام ہے کہ ان خریداروں کو جعلی دستاویزات اور گمراہ کن معلومات کی بنیاد پر فلیٹ فروخت کئے گئے جس کے باعث اب یہ خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔