کلیان:ایس ٹی بسوں کو درگاڑی پُل سے روانہ کرنے کا فیصلہ

Updated: December 03, 2022, 1:25 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | kalyan

ریلوے اسٹیشن کے اطراف تعمیراتی کام کے سبب ٹریفک مسائل کو دورکرنے کیلئے شہری انتظامیہ کی کوشش

Heavy traffic can be seen outside Kalyan railway station; Photo: INN
کلیان ریلوے اسٹیشن کے باہر زبردست ٹریفک دیکھا جا سکتا ہے؛تصویر:آئی این این

 کلیان ریلوے اسٹیشن کے احاطے میں اسمارٹ سٹی کے تحت ’ اسٹیشن ایریا ٹریفک امپرومنٹ اسکیم‘( سیٹس) کا تیزی سے کام جاری ہے۔ اس تعمیراتی کام کے سبب ریلوے اسٹیشن کے اطراف ہو نے والے زبردست ٹریفک جام کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے طویل مسافت کی ایس ٹی بسوں کو دُر گاڑی پُل سے روانہ کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔ کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کے میونسپل کمشنر نے بتایا کہ۵؍دسمبر سے اس فیصلہ کو نافذ کیا جائیگا۔
       اسمارٹ سٹی پر وجیکٹ کے تحت جاری سیٹس کی تعمیر کے باعث کلیان ریلوے اسٹیشن کے اطراف ٹریفک کا نظام پوری طرح سے درہم بر ہم ہو گیا ہے۔ جمعہ کو کے ڈی ایم سی کے میونسپل کمشنر ڈاکٹر بھاؤ صاحب ڈانگڑ ے نے محکمہ ٹریفک ، آر ٹی او ،کے ڈی ایم ٹی، این این ایم ٹی اور رکشا چالک مالک سنگھٹنا کے نمائندوں کے ساتھ ایک مشترکہ میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں فیصلہ کیاگیا کہ لمبی دوری کی ایس ٹی بسیں کلیان بس ڈپو کے بجائے اب در گاڑی پُل سے روانہ کی جائیں گی۔ وہیں مر باڈ اور احمد نگر جانے والے بسوں کو گنیش گھاٹ بس ڈپو سے روانہ کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں کلیان بس ڈپو سے چھوٹنے والی گاڑیوں کو گرو دیو ہوٹل سے روانہ کی جائیگی۔  مسافروں کو سہولت بہم پہنچانے کیلئے کلیان ریلوے اسٹیشن سے در گاڑی پل اور گنیش گھاٹ تک کے ڈی ایم ٹی اور این این ایم ٹی کی منی بسیں چلائی جائے گی۔ 
 عیاں رہے کہ کئی مہینوں سے اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے سبب  بسوںکو ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔ دوسری جانب کلیان ریلوے اسٹیشن کے باہر رکشا اسٹینڈ پر ایک قطار شیئر نگ رکشا اور دوسری میٹر رکشا کیلئے مختص کی گئی ہے۔  میونسپل کمشنر نے محکمہ ٹریفک کو ہد ایت دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی اور بغیر پر مٹ کی رکشے اور کالی پیلی ٹیکسی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ قانونی ٹیکسی ڈرائیوروں کو درگاڑی پل سے مسافروں کو لانے لے جانے کی اجازت ہو گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK