اسے عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر کام روکنے کا مطالبہ کیا گیا،مجلس مشاورین کا قانونی طریقے سے معاملے کو آگے بڑھانے کا اعلان۔
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 11:44 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan
اسے عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر کام روکنے کا مطالبہ کیا گیا،مجلس مشاورین کا قانونی طریقے سے معاملے کو آگے بڑھانے کا اعلان۔
پھوٹکی (خستہ حال) مسجد اور عید گاہ (حکومت کے ذریعہ نامزد درگاڑی قلعہ) اور اس سے متصل وقف اراضی پر عدالتی حکم امتناع ( اسٹیٹس کو) کے نفاذ کے باوجود ریاستی حکومت کی جانب سے مختص فنڈ سے متنازع درگاڑی قلعہ کے پرانے صدر دروازے کو منہدم کرکے نئے سرے سے تعمیرکرنے پر قانونی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ سماجی حلقوں نے اسے عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی اور توہینِ عدالت قرار دیتے ہوئے فوری طور پر کام روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔اعتراض کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور جائیداد کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے کا عدالتی حکم موجود ہے تو تعمیراتی سرگرمیاں شروع کرنا عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۷۴؍ فیصد انڈرگریجویٹ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے: سروے
عید گاہ اور اس سے متصل مسجد کا معاملہ طویل عرصے سے عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ جنوری ۲۰۲۵ ءمیں ہندو فریقین کی درخواست پر عدالت نے عید گاہ اور اس سے متصل متنازع درگاڑی قلعہ کے برج اور صدر دروازے سے متعلق عائد حکمِ امتناعی میں جزوی ترمیم کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو خستہ حال تاریخی ڈھانچے کے تحفظ اور ضروری مرمت کی مشروط اجازت دے دی تھی۔ تاہم عدالت نے واضح طور پر یہ پابندی برقرار رکھی کہ متنازع مقام پر کوئی نئی تعمیر کی جائے گی اور نہ ہی وہاں موجود مذہبی ڈھانچے کی حیثیت یا نوعیت میں کوئی تبدیلی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: مسلسل بڑھتی مہنگائی پرعوام میں شدیدبے چینی اور غصہ
اس سلسلے میں نمائندۂ انقلاب نے مجلس مشاورین کے صدر شرف الدین کرتے سے رابطہ کرکے صورتحال دریافت کی۔انہوں نے جاری تعمیراتی کام کو عدالت کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کے مختلف قانونی پہلوؤں پر ماہرین قانون سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ تعمیراتی سرگرمیوں کے خلاف متعلقہ حکام کو وقتاً فوقتاً شکایات اور مکتوبات کے ذریعے آگاہ کیا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی قانونی طریقے سے اس معاملے کو آگے بڑھایا جائے گا۔