راجکمار راؤ کا شمار آج ہندی سنیما کےقابل، تجربہ کار اور ورسٹائل اداکاروںمیں کیا جاتا ہے۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ کسی کردار کو ادا کرنے کے بجائے اس کردار کی زندگی جینے کی کوشش کرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 12:41 PM IST | Agency | Mumbai
راجکمار راؤ کا شمار آج ہندی سنیما کےقابل، تجربہ کار اور ورسٹائل اداکاروںمیں کیا جاتا ہے۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ کسی کردار کو ادا کرنے کے بجائے اس کردار کی زندگی جینے کی کوشش کرتے ہیں۔
راجکمار راؤ کا شمار آج ہندی سنیما کےقابل، تجربہ کار اور ورسٹائل اداکاروںمیں کیا جاتا ہے۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ کسی کردار کو ادا کرنے کے بجائے اس کردار کی زندگی جینے کی کوشش کرتے ہیں۔ چاہے وہ انسانی حقوق کے وکیل شاہد اعظمی ہوں، کسی ویران فلیٹ میں تنہا زندگی اور موت سے لڑتا ہوا شخص، چھوٹے شہر کا محبت میں گرفتار نوجوان، عجیب و غریب حالات میں پھنسا عام آدمی یا پھر ہارر کامیڈی کا بے ساختہ ہیرو، راجکمار راؤ ہر مرتبہ اپنے کردار کے رنگ میں اس طرح ڈھل جاتے ہیں کہ ان کی سابقہ شناخت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان : متنازع درگاڑی قلعہ کے صدر دروازے کے تعمیراتی کام پر تنازع
راجکمار راؤ کی پیدائش ۳۱؍اگست ۱۹۸۴ءکوہریانہ کے گڑگاؤں میں ہوئی۔ ان کا اصل نام راج کمار یادو تھا۔ ان کا تعلق کسی فلمی یا فنکارانہ خاندان سے نہیں تھا بلکہ وہ ایک متوسط طبقے کے عام گھرانے میں پلے بڑھے۔ بچپن ہی سے انہیں اداکاری اور اسٹیج سے دلچسپی تھی۔ عام طور پر ایسے خواب چھوٹے شہروں اور متوسط طبقے کے گھروں میں صرف خواب ہی رہ جاتے ہیں، کیونکہ فلمی دنیا کا راستہ نہایت غیر یقینی اور دشوار سمجھا جاتا ہے، لیکن راجکمار کے اندر اداکار بننے کی خواہش رفتہ رفتہ ایک مضبوط عزم میں تبدیل ہو گئی۔
اداکاری کو پیشہ بنانے کافیصلہ کرنے کے بعد انہوں نے پونے کےمعروف فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، ایف ٹی آئی آئی، سے اداکاری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔۲۰۰۸ءمیں تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ ممبئی پہنچے۔یہ وہ مرحلہ تھا جب ان کے پاس نہ کوئی فلمی پس منظر تھا، نہ کوئی طاقت ور سفارش اور نہ ہی ستاروں جیسی چمک دمک۔ ان کے پاس صرف اداکاری کا ہنر اور کامیاب ہونےکی شدید خواہش تھی۔ راجکمار راؤ کا ممبئی پہنچنے کے بعد کا ابتدائی دور جدوجہد، آڈیشن اور انتظار سے عبارت رہا۔
یہ بھی پڑھئے:۹۷؍ کروڑ روپے خرچ کئے گئے، ’باہوبلی‘ کی پریکوئل سیریز کیوں منسوخ ہوئی؟
۲۰۱۳ءراجکمار راؤ کے کریئر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ فلم ’’کائی پو چے!‘‘ میں انہوں نے تین دوستوں میں سے ایک کا کردار ادا کیا۔ فلم کی کامیابی کے ساتھ راجکمار راؤ کی اداکاری بھی ناظرین اور ناقدین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
اگر راجکمار راؤ کے کریئرمیں کسی ایک فلم کو فیصلہ کن مقام حاصل ہے تو وہ ہنسل مہتا کی ’شاہد‘ ہے۔ یہ فلم انسانی حقوق کے وکیل شاہد اعظمی کی زندگی پر مبنی تھی، جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود انصاف اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔’شاہد‘ کے بعد راجکمار راؤ کے لیے آسان راستہ یہ تھا کہ وہ اسی نوعیت کی سنجیدہ اور حقیقی کرداروں پر مبنی فلمیں کرتے رہتے، لیکن انہوں نے خود کو کسی ایک خانے میں محدود نہیں کیا۔’کوئین‘ میں ان کا کردار مختصر تھا، لیکن انہوں نےایک مختلف نوعیت کے منفی کردار کو یادگار بنایا۔ ۲۰۱۸ءمیں ’استری‘ کی کامیابی نے راجکمار راؤ کے کریئر کو ایک نئے مرحلے میں پہنچا دیا۔ ہارر اور کامیڈی کے امتزاج پر مبنی اس فلم میں انہوں نے وکی نامی نوجوان کا کردار ادا کیا۔راجکمار راؤ نے بدلتے ہوئے میڈیا کےساتھ خود کو کامیابی سے ہم آہنگ کیا۔ فلم ’بوس: ڈیڈ/الائیو‘ میں نیتاجی سبھاش چندر بوس کا کردار ان کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔
راجکمار راؤ کی اداکاری کا سب سے اہم پہلو ان کی فطری سادگی ہے۔ وہ مکالموں کو ادا کرنے کے بجائے انہیں جینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے چہرے پر جذبات کی معمولی سی تبدیلی بھی کردار کی کیفیت بیان کر دیتی ہے۔