مسلمانوں نے انتہائی صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پُرامن انداز میں نمازِ عید ادا کی،سیاسی پارٹیوں کی ایک دوسرے پر تنقید
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 7:33 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Mumbai
مسلمانوں نے انتہائی صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پُرامن انداز میں نمازِ عید ادا کی،سیاسی پارٹیوں کی ایک دوسرے پر تنقید
عید الاضحیکے موقع پر کلیان کے تاریخی عیدگاہ سے متصل درگامندر میں پوجا پر عائد روایتی پابندی کا معاملہ اس بار مذہبی حساسیت سے کہیں بڑھ کر کھلی سیاسی کشمکش میں تبدیل ہوتا دکھائی دیا۔ نمازِ عید کے دوران ’گھنٹہ ناد آندولن‘ کے نام پر کی گئی سرگرمیوں نے شہر کے پُر امن ماحول کو کشیدہ بنانے کی کوشش کی جبکہ شیو سینا کے دونوں دھڑوں ( شندے اور ادھو) سمیت بی جے پی نے اس حساس مسئلہ کو ہندوتوا سیاست کے ذریعے عوامی جذبات بھڑکانے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا۔
ایک جانب سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام تراشی اور سبقت لے جانے کی دوڑ میں مصروف رہیں تو دوسری طرف مسلمانوں نے انتہائی صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پُرامن انداز میں نمازِ عید ادا کی۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے عیدگاہ اور اطراف کے علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی جس کے باعث حالات قابو میں رہے۔
تفصیلات کے مطابق عید الاضحی کی نماز کے دوران درگا مندر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کرنے والے مظاہرین کو روکنے کیلئے لال چوکی پر پولیس کی جانب سے سخت بیریکیڈنگ کی گئی تھی۔ اس دوران بعض مظاہرین نے جان بوجھ کر قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے بیریکیڈ پر چڑھنے اور تصادم جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے تمام مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔
اس سے قبل ہی بی جے پی کے مقامی لیڈر مہیش پاٹل سمیت کئی کارکنان اور رہنماؤں کو احتیاطی طور پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔اس موقع پر سیاسی پارٹیوں کے درمیان لفظی جنگ بھی دیکھنے کو ملی۔ شیوسینا(شندے) کے ضلعی صدر گوپال لانڈگے نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ برسوں پہلے ان کی پارٹی نے یہ تحریک شروع کی تھی جبکہ بی جے پی کو مندر میں داخلے کی پابندی کا احساس بہت تاخیر سے ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی محض سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے اس مسئلہ کو ہوا دے رہی ہے۔
دوسری جانب ادھو ٹھاکرے گروپ کے نائب صدر وجے سالوی نے موجودہ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب مرکز اور ریاست دونوں جگہ ہندوتوا کا دعویٰ کرنے والی پارٹیوں کی حکومتیں موجود ہیں تو پھر ہندوؤں کو اپنے ہی مندر میں داخل ہونے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟انہوں نے حکومت پر دوہرا معیار اپنانے اور عوام کو گمراہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں ایک طرف اس معاملے کو عدالت میں زیر سماعت قرار دیتے ہوئے عدالتی نظام پر اعتماد ظاہر کرتی ہیں لیکن دوسری طرف سڑکوں پر احتجاج اور طاقت کے مظاہرے کر کے قانون کی دھجیاں اڑاتی نظر آتی ہیں جس سے شہر کے امن و امان پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔
دریں اثنا شہر بھر میں عید الاضحی کا تہوار مذہبی عقیدت اور روایتی جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا۔عید گاہ اور مساجد میں نماز عید ادا کی گئی جبکہ میونسپل انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ مقامات پر بکروں اور پاڑوں کی قربانی کا سلسلہ بھی پُرامن انداز میں جاری رہا۔ پولیس اور انتظامیہ کی سخت نگرانی کے باعث مجموعی طور پر شہر میں صورتحال قابو میں رہی۔