Updated: July 15, 2026, 10:27 PM IST
| Washington
ارجنٹائنا اور مصر کے میچ کے بعد یہ بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ وی اے آر تنازع سے شروع ہونے والی گفتگو اسرائیل اور فلسطین پر وسیع تر بحث میں تبدیل ہوگئی۔ ارجنٹائن کے ایک حامی کو اسرائیلی جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھا گیا، جسے کچھ لوگوں نے مصر کے کوچ حسام حسن کے ردِعمل کے طور پر دیکھا، جنہوں نے اس سے قبل میدان میں فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے ورلڈکپ کی ایک گزشتہ جیت کو فلسطینیوں کے نام منسوب کیا تھا۔
فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گرد سوشل میڈیا پر ہونے والے مباحثوں پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ٹورنامنٹ میں فٹبال کی دیوانگی اب محض کھیل کی مہارت کے بجائے تیزی سے جغرافیائی سیاست، جنگوں اور نظریات کے زیرِ اثر آ رہی ہے۔ وہ گفتگو جو کبھی لیونل میسی کے بائیں پاؤں، کائلان ایمباپے کے شاٹس اور کرسٹیانو رونالڈو کے گولز کے گرد گھومتی تھی، اب شناخت اور سیاسی نظریات کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔
الامین جمال، گلبرٹو مورا اور ایوب بوعدی جیسے نوجوان ستاروں نے شروع میں اپنی کارکردگی کی وجہ سے مباحثوں پر راج کیا، لیکن اس کے بعد سے سیاسی بحثوں نے ٹائم لائنز پر قبضہ کرلیا۔ جب میمز کے ذریعے ارجنٹائنا پر نسل پرستی کا الزام لگایا گیا اور اسے ”جنوبی امریکہ کا اسرائیل“ قرار دیا گیا تو بہت سے سوشل میڈیا صارفین کو انگلینڈ، جو کہ طویل عرصے سے نوآبادیاتی تاریخ سے جڑا ملک ہے، کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ بڑے پیمانے پر شیئر کئے جانے والے ایک تبصرے میں لکھا تھا: ”پہلی بار لوگ نوآبادیاتی نظام کا شکار ہونے والے (مظلوم) کے مقابلے میں نوآبادیاتی طاقت (قابض) کی حمایت کر رہے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: ایف بی آئی نے انگلینڈ بمقابلہ ارجنٹائنا سیمی فائنل کو ہائی رسک میچ کیوں قرار دیا؟
ہندوستانی فلم ساز آنند پٹوردھن نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا، ”ہو سکتا ہے کہ آپ میسی کو پسند کرتے ہوں لیکن اگر آپ کا اور اس کا دائیں بازو کا، نسل پرست، اسرائیل نواز ملک ہار جاتا ہے تو ارجنٹائنا کیلئے آنسو مت بہائیں۔“ کولمبیا کے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد، ایک وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ”ناروے اب ورلڈ کپ میں بچ جانے والا آخری لاطینی امریکی ملک ہے۔“
ارجنٹائنا اور مصر کے میچ کے بعد یہ بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ وی اے آر (VAR) تنازع سے شروع ہونے والی بحث اسرائیل اور فلسطین پر وسیع تر تنازع میں تبدیل ہوگئی۔ ارجنٹائن کے ایک حامی کو اسرائیلی جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھا گیا، جسے کچھ لوگوں نے مصر کے کوچ حسام حسن کے ردِعمل کے طور پر دیکھا، جنہوں نے اس سے قبل میدان میں فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے ورلڈکپ کی ایک گزشتہ جیت کو فلسطینیوں کے نام منسوب کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ارجنٹائنا کو ورلڈ کپ سے نکالنے کے مطالبے پر۶۰؍ لاکھ سے زائد افراد کی دستخطی مہم
اس واقعے پر ملے جلے ردِعمل سامنے آئے۔ ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ”فٹبال میں نسل پرستی کی بحث صرف اس لئے لانا کیونکہ آپ کا پسندیدہ کھلاڑی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا... اچھے فٹ بال کی حمایت کریں، اپنی زبردستی کی شناختی سیاست کی نہیں۔“ ایک اور مداح نے لکھا، ”میں فٹ بال کو سیاست میں تبدیل کرنے سے اتفاق نہیں کرتا۔ میں ۶ سال کی عمر سے ورلڈکپ دیکھ رہا ہوں۔ یہ پہلے پرامن اور پرلطف محسوس ہوتا تھا۔“ اسی صارف نے مزید کہا کہ مصر چونکہ غزہ کے قریب ہے، اس لئے فلسطینی جھنڈا لہرانا کوئی بڑی بات نہیں لگی، خاص طور پر جب غزہ کے لوگ مصری ٹیم کی حمایت کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید سوال اٹھایا، ”معاملہ صرف اس وقت بڑھا جب ارجنٹائنا کے کچھ حامیوں نے کچھ اشتعال انگیز چیزوں کے ساتھ اسرائیلی جھنڈا لہرانا شروع کیا۔ ارجنٹائنا اسرائیل سے تقریباً ۱۳۰۰۰ کلومیٹر دور ہے۔ انہوں نے مصریوں کو کیوں اکسایا؟“
بڑے پیمانے پر شیئر ہونے والی ایک اور پوسٹ میں لکھا تھا، ”آپ فٹبال اپنے پیروں سے کھیلتے ہیں؛ سیاست یا مذہب اس میں شامل نہیں ہوتے۔“ یہاں دلیل دی گئی کہ میسی کے کبھی اسرائیل میں رہنے کے دعووں سے مداحوں کے درمیان ان کے مقام پر ”کوئی فرق“ نہیں پڑتا۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین کی فتح کا خفیہ نسخہ ؟ ایرانی کباب سے متعلق دلچسپ دعویٰ
سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے بھی اس بحث میں حصہ لیا اور لکھا کہ وہ ارجنٹائنا کی حمایت صرف فٹ بال کیلئے نہیں کر رہے، بلکہ اس لئے کر رہے ہیں کیونکہ وہ لاطینی امریکہ کو امیر یورپی ممالک کے مقابلے میں کمزور سمجھتے ہیں۔ یہ ابحاث فٹبال کی دیوانگی کے سیاسی شناخت کے چشمے سے دیکھے جانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔