• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان میونسپل نتائج : ’’ حکمت عملی کے فقدان اور اختلاف و انتشارکے سبب مسلم نمائندگی میں کمی آئی‘‘

Updated: January 18, 2026, 8:43 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Mumbai

شہر کی سرکردہ مسلم شخصیات نے افسوس ظاہر کیا کہ لوگ صرف الیکشن کے وقت بیدار ہوتے ہیں، اگر مسلم رائے دہندگان متحد ہوتے تو مزید نمائندے منتخب ہوسکتے تھے

BJP workers and supporters celebrate the victory of their candidate in Kalyan.
کلیان میں بی جے پی کے کارکنان اور حامی اپنے امیدوار کی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے۔

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے عوام نےمہایوتی کے حق میں فیصلہ سنا کر بی جے پی اور شندے سینا کے اقتدار کی راہ ہموار کر دی ہے۔ ان انتخابات میں بی جے پی نے ۵۰؍اور شندے سینا نے ۵۳؍ نشستوں پرکامیابی حاصل کر کے ایوان میں اپنی برتری ثابت کر دی۔تاہم ان نتائج کا دوسرا رخ مقامی مسلم قیادت کیلئے  لمحہ فکریہ ہے کیونکہ ایک بڑی آبادی رکھنے کے باوجود اس مرتبہ ایوان میں محض دو مسلم چہرے ہی جگہ بنا پائے ہیں۔ یہ صورتحال کسی عوامی تائید کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ واضح طور پر سیاسی شعور کے فقدان کی عکاسی کرتی ہے۔
 اگر پینل نمبر ۸؍کی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسلم ووٹرز کی طاقت کو اگر درست سمت دی جاتی تو یہاں کی چاروں نشستوں پر مسلم امیدوار یقینا فاتح بن کر ابھرتے مگر بدقسمتی سے ایسا ہو نہ سکا۔ جہاں پینل نمبر ۸ ؍سی  میں مسلمانوں نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس امیدوار کانچن کلکرنی کی جیت کو یقینی بنایا۔وہیں پینل نمبر ۸ ؍ڈی  میں سیاسی منظرنامہ بالکل برعکس رہا۔ یہاں آپسی نااتفاقی اور انا پرستی کے سبب مسلم امیدواروں کی ایک بڑی تعداد میدان میں آگئی جس کا براہ راست خمیازہ مسلم ووٹرز کی تقسیم کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اس بکھراؤ نے بی جے پی کے امیدوار امیت دھاکرس کیلئے جیت کی راہ ہموار کر دی اور یوں ایک یقینی نشست محض قیادت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہاتھ سے نکل گئی۔
 کے ڈی ایم سی کے پینل نمبر ۸کے انتخابی نتائج ایک تکلیف دہ مثال بن کر سامنے آئے ہیں جہاں مسلم ووٹوں کے بکھراؤ نے بی جے پی امیدوار کی جیت کی راہ ہموار کر دی۔اگر ہم انتخابی اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو تصویر بالکل صاف ہو جاتی ہے۔ اوپن کیٹیگری ڈی  میں بی جے پی کے امیدوار امیت دھاکرس محض ۱۴۷۶ ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ اس کے برعکس اسی حلقے سے میدان میں اترنے والے ۹؍مسلم امیدواروں کو ملنے والے کل ووٹوں کی تعداد ۱۶۹۲۲؍تھی۔یہ اعداد و شمار چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اگر یہاں مسلم قیادت متحد ہوتی اور صرف ایک مضبوط امیدوار میدان میں ہوتا تو جیت کا فرق ہزاروں میں ہوتا۔ لیکن ۹؍امیدواروں کی موجودگی نے ووٹوں کو اس بری طرح تقسیم کیا کہ فرقہ پرست طاقتوں کو قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ 
 اس ضمن  میں نمائندہ انقلاب نے چند سرکردہ افراد سے بات کی۔ایڈوکیٹ عزیز نجے نے مسلم ووٹرز کی سیاسی نااتفاقی پر افسوس ظاہرکیا اور کہا کہ ملت کے بااثر حضرات کو الیکشن سے قبل ہی تمام برادریوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ہمارے یہاں ہر شخص اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنانا چاہتا ہے جس کی قیمت پوری قوم کو چکانی پڑتی ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر کسی بے داغ اور کرپشن سے پاک چہرے کو متفقہ طور پر سامنے لایا جاتا تو نتائج مختلف ہوتے۔اسلم کاغذی کے مطابق پینل نمبر ۸ ؍میں چاروں مسلم امیدواروں کی حمایت کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہاں سے چاروں مسلم کارپوریٹرز کے جیتنے کی مکمل صلاحیت موجود تھی۔ انہوں نے اسے تاریخ کا ایک سیاہ باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کوکنی برادری کا کوئی بھی نمائندہ کارپوریشن تک نہیں پہنچ سکا۔ یہ  باہمی اختلاف اور انتشار کا نتیجہ ہے۔سید رضوان علی نے برادری واد اور ذاتی مفادات پر ضرب لگاتے ہوئے کہا کہ لوگ صرف الیکشن کے وقت جاگتے ہیں اور سوشل میڈیا تک محدود رہتے ہیں۔ بی جے پی کی جیت کی بڑی وجہ یہ رہی کہ ووٹرز نے ملی مفاد پر دوستی، برادری اور ذاتی تعلقات کو ترجیح دی۔ ابراہیم انعامدار نے ایک اہم نکاتی موازنہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پینل نمبر ۸؍ اے کیٹگری میں بی جے پی امیدوار پراگ تیلی کو شکست دینے کے لیے متحدہ ووٹنگ کی گئی بالکل وہی حکمت عملی ڈی میں بھی اپنائی جانی چاہیے تھی مگر افسوس کہ وہاں دانشمندی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔

kalyan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK