• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بورڈ امتحان میں فیل ہونے کا خوف، ایچ ایس سی کی طالبہ نے پھانسی لگالی

Updated: February 26, 2026, 8:05 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

کولسے واڑی علاقے میں رہائش پذیر بارہویں جماعت کی ۱۷ سالہ طالبہ نے امتحان کے دباؤ کے باعث انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق متوفی ایک نامور کالج میں کامرس کی طالبہ تھی اور ایچ ایس سی امتحان میں ناکامی کے شدید خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔

Hang.Photo:INN
پھانسی۔ تصویر:آئی این این
کولسے واڑی علاقے میں رہائش پذیر  بارہویں جماعت کی  ۱۷ سالہ طالبہ نے امتحان کے دباؤ کے باعث انتہائی قدم  اٹھاتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق متوفی ایک نامور کالج میں کامرس کی طالبہ تھی اور   ایچ ایس سی  امتحان میں ناکامی کے شدید خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔تعلیمی میدان میں بڑھتے ہوئے مقابلے اور امتحانات کے خوف نے ایک اور ہنستی کھیلتی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔
کلیان کے کولسے واڑی علاقے میں مارڈن کالج کے قریب رہنے والی ۱۲؍ویں جماعت کی ایک طالبہ نے بدھ کی صبح اپنے گھر میں پھانسی لگا لی۔ اس اندوہناک واقعہ نے نہ صرف متوفی کے اہل خانہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ شہر کے تعلیمی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
 
 
کولسے واڑی پولیس کے مطابق خودکشی سے قبل طالبہ نے ایک جذباتی سوسائڈ نوٹ چھوڑاہے جس میں اس نے اپنے دل میں چھپے امتحان کے خوف اور والدین کیلئے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ میرے جانے کے بعد امی اور پاپا آپ پریشان نہ ہونا۔ یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ شدید ذہنی کرب اور ناکامی کے ڈر سے گزر رہی تھی۔
 
 
واضح رہے کہ کلیان میں گزشتہ ۲۴ ؍گھنٹوں کے دوران  خودکشی کا یہ دوسرا  واقعہ ہے۔ ایک روز قبل ہی ایک نوجوان نے کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز‘ کے خوف سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ اب امتحان کے ڈر سے طالبہ کی خودکشی نے مقامی افراد کو یہ سوال کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر آج کی نوجوان نسل معمولی خوف کے سامنے اتنی بے بس کیوں ہو رہی ہے۔ معروف ماہر نفسیات اشوک رہیجا نے اس رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کی نوجوان نسل میں برداشت اور صبر کا مادہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ معمولی ناکامی یا محض خوف کے سامنے ہتھیار ڈال دینا ایک لمحہ فکریہ ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہئے کہ وہ بچوں کو صرف نمبروں کی دوڑ میں نہ دوڑائیں بلکہ انہیں ذہنی طور پر اتنا مضبوط بنائیں کہ وہ زندگی کے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔پولیس نے حادثاتی موت کا معاملہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK