• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان:غیر قانونی عمارت کی فائل ریکارڈ روم سے غائب، کیس درج

Updated: February 25, 2026, 4:00 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی )کے صدر دفتر سے ایک غیر قانونی عمارت یوسف ہائٹس کی اہم ترین فائل پراسرار طور پر غائب ہوگئی ہے۔ اس واقعہ نے کے ڈی ایم سی میں موجود بدعنوانی کی قلعی کھول دی ہے۔

Kalyan Building.Photo:INN
کلیان کی عمارت۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر کے شہر کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی )کے صدر دفتر سے ایک غیر قانونی عمارت یوسف ہائٹس کی اہم ترین فائل پراسرار طور پر غائب ہوگئی ہے۔ اس واقعہ نے کے ڈی ایم سی میں موجود بدعنوانی کی قلعی کھول دی ہے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفرور بلڈر کو قانونی شکنجے سے بچانے کے لئے کسی نے جان بوجھ کر سرکاری ریکارڈ چوری کیا یا اسے تلف کر دیا ہے۔
 
 
تفصیلات کے مطابق ریتی بندر روڈ پر واقع مولوی کمپاؤنڈ میں تعمیر شدہ یوسف ہائٹس نام کی عمارت کی قانونی حیثیت پر اس وقت سوالیہ نشان کھڑا ہوا جب نثار شیخ نام کے شہری نے آر ٹی آئی کے تحت اس عمارت کےدستاویزات طلب کئے۔کے ڈی ایم سی کے ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ نے جب ریکارڈ کی تلاش شروع کی تو معلوم ہوا کہ متعلقہ فائل شعبہ ریکارڈ سے غائب ہے۔میونسپل کارپوریشن کے جونیئر انجینئر گیانیشور اڑکے نے بازار پیٹھ پولیس اسٹیشن میں فائل کی گمشدگی کا معاملہدرج کر لیا گیا ہے۔میونسپل انتظامیہ کےریکارڈ کے مطابق، یہ عمارت ۲۰۱۲ء سے ۲۰۱۴ء کے درمیان کھیل کے میدان اور بے گھر افراد کے لئے مختص پلاٹوں پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی۔
 
 
زمین کے مالک عصمت مولوی اور پاور آف اٹارنی ہولڈر سلمان ڈولارے نے مبینہ طور پر میونسپل کارپوریشن کے جعلی نقشے، فرضی او سی اور دیگر بوگس کاغذات تیار کر کے خریداروں کو دھوکہ دیا۔ اس ۱۰؍ منزلہ عمارت میں متعدد لوگوں نے اپنے خون پیسنے کی کمائی سے فلیٹ خریدے ہیں۔ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ یہ فائل محض اتفاقیہ طور پر گم نہیں ہوئی بلکہ اسے دانستہ طور پر کہیں اور منتقل کر دیا گیا ہے یا اسے جلا کر ثبوت مٹا دئیے گئے ہیں۔ملزم سلمان ڈولارے پہلے ہی مفرور ہے اور اب فائل کا غائب ہونا اس شک کو تقویت دیتا ہے کہ بااثر حلقے اس غیر قانونی تعمیرات کے پیچھے چھپے حقائق کو دبانا چاہتے ہیں۔ پولیس نے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے تفتیش شروع کردی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK