مشرقِ وسطیٰ میں ایران اسرائیل امریکہ درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بین الاقوامی فضائی خدمات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اسی تناظر میں مہاراشٹر کے ضلع تھانے کے ۲۳؍ شہری دبئی میں پھنس کر رہ گئے ہیں جن کی واپسی غیر یقینی صورت اختیار کر گئی ہے۔
EPAPER
Updated: March 04, 2026, 12:02 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Kalyan
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اسرائیل امریکہ درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بین الاقوامی فضائی خدمات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اسی تناظر میں مہاراشٹر کے ضلع تھانے کے ۲۳؍ شہری دبئی میں پھنس کر رہ گئے ہیں جن کی واپسی غیر یقینی صورت اختیار کر گئی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اسرائیل امریکہ درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بین الاقوامی فضائی خدمات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اسی تناظر میں مہاراشٹر کے ضلع تھانے کے ۲۳؍ شہری دبئی میں پھنس کر رہ گئے ہیں جن کی واپسی غیر یقینی صورت اختیار کر گئی ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ تمام افراد۲۳؍ فروری۲۰۲۶ء کو ایک سیاحتی ٹور کے تحت دبئی گئےتھے اور۲۸؍ فروری کی شب۴۵:۱۲؍ پران کی وطن واپسی کی پرواز مقرر تھی، تاہم جنگی حالات کے پیشِ نظر اچانک فلائٹ منسوخ کر دی گئی۔ اس غیر متوقع فیصلے نے مسافروں اور ان کے اہل خانہ کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔پھنسے ہوئے شہریوں میں کلیان، شاہ پور اور مُرباڑ تعلقہ کے باشندے شامل ہیں جن میں۱۲؍ معمر شہری بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ریاست کے مختلف اضلاع میں احتجاج
اہل خانہ کے مطابق واپسی کے پیشِ نظر تمام مالی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی تھی جس کے سبب اب اضافی قیام کے اخراجات برداشت کرنا دشوار ہو رہا ہے۔ ہوٹل بل اور روزمرہ ضروریات کی ادائیگی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ذرائع کے مطابق تمام مسافر دبئی کے اے وَن فہدی اسٹریٹ پر واقع گرانڈ اسٹوریاہوٹل( Grand Astoria Hotel)میں مقیم ہیں۔ دبئی میں موجود رمیش دھالپے نے ہندوستانی وزارتِ خارجہ سے رابطہ قائم کرتے ہوئے تمام شہریوں کی فوری اور محفوظ وطن واپسی کیلئے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے حکومت ِ ہند سے مالی اور انتظامی سطح پر فوری تعاون فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اہان پانڈے میں ہے اولڈاسکول رومانوی ہیرو جیسی دیانتداری ہے: علی عباس ظفر
ادھر سوشل میڈیا پر خبر وائرل ہونے کے بعد شاہ پور کے تحصیلدار پرمیشور کاسولے نے متعلقہ افسران کو متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کر کے مکمل تفصیلات حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے، تاہم تاحال کسی سرکاری دفتر یا پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔ اہل خانہ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال کے پیشِ نظر شہریوں کی سلامتی اولین ترجیح ہونی چاہئے اور انہیں جلد از جلد بحفاظت ہندوستان واپس لانے کیلئے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔ دبئی میں پھنسے شہریوں کے نام:ایکناتھ دھانکے(۶۷) ، گلاب دھانکے(۶۲)، شیورام ولنبے(۶۳)، شُبھنگی ولنبے(۵۹)، کیشو ویکھنڈے(۷۰)، کویتا ویکھنڈے(۶۱)، مدھوکر پاٹل(۷۲)، میناکشی پاٹل(۶۴)، بالو گایکر(۷۰)، ونیٹا گائیکواڑ (۶۴) ، ونیٹا ڈاکٹر میرا (۶۸)، موہپے(۶۲)، پرشورام گائیکواڑ(۶۱) ، شُبھنگی گائیکواڑ(۵۳)، رمیش دھالپے(۶۰) ، لتا دھالپے(۵۲)، واسودیو شیلار(۷۰)، سپنا شیلار(۶۲) ، کرُنا کاپرے(۵۹)، انیتا دھانکے(۷۱)، منیش(۷۱)سمیت دیگر شہری شامل ہیں۔اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی ماحول کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، اس لیے حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر سفارتی اقدام کرتے ہوئے ان تمام افراد کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جائے۔