بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں پولیس کا کریک ڈاؤن، زیر حراست افراد کے دستاویزات کی چھان بین جاری۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 3:19 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں پولیس کا کریک ڈاؤن، زیر حراست افراد کے دستاویزات کی چھان بین جاری۔
کلیان اور ڈومبیولی میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کے خلاف پولیس نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر بنگلہ دیشی شہریوں کی دراندازی کی شکایات سامنے آنے کے بعد پولیس نے ’بنگلہ دیشی مکت شہر‘ مہم کے تحت وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران ۱۰۰؍ سے زائد پھیری والوں کو حراست میں لے کر ان کے دستاویزات اور شہریت کے ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے۔ تاہم اس مہم نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کیونکہ کئی پھیری والوں کا الزام ہے کہ صرف بنگلہ یا آسامی زبان بولنے کی بنیاد پر انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے حالانکہ وہ خود کو خالص ہندوستانی شہری بتاتے ہیں اور برسوں سے کلیان و ڈومبیولی میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ ایسے میں یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ غیر قانونی دراندازی کے خلاف کارروائی کے نام پر کہیں مقامی شہریوں کو تو نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں کو خود مختاربنانے کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی
تفصیلات کے مطابق ہائی پروفائل ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں گھریلو ملازمین، مزدوروں اور سڑکوں پر کاروبار کرنے والے پھیری والوں میں بنگلہ دیشی باشندوں کی بڑی تعداد کی موجودگی کے شبہ کے بعد کھڑک پاڑہ پولیس نے بڑے پیمانے پر جانچ مہم شروع کی ہے۔ اس سلسلے میں کھڑک پاڑہ پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر ڈاکٹر امرناتھ واگھموڑے کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے علاقے کے متعدد پھیری والوں کو تھانے طلب کر کے ان کے شناختی دستاویزات کی جانچ کی۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران حراست میں لئے گئے ۱۰۰ ؍سے زائد افراد سے آدھار کارڈ، پین کارڈ، راشن کارڈ اور مہاراشٹر میں مستقل رہائش کے ثبوت طلب کئے گئے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران کئی افراد اپنی ہندوستانی شہریت کے مستند ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد ایسے افراد کیخلاف قانونی کارروائی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
دوسری جانب متاثرہ پھیری والوں نے پولیس کی اس کارروائی پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کئی افراد نے الزام لگایا کہ پولیس جان بوجھ کر انہیں ہراساں کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال اور آسام سے تعلق رکھنے والے مزدوروں اور پھیری والوں کو بلاجواز بنگلہ دیشی قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ وہ ہندوستانی شہری ہیں اور برسوں سے کلیان اور ڈومبیولی میں رہائش پذیر ہیں۔