ممبئی کی مضافاتی لوکل ٹرینوں کی مسلسل تاخیر نے جہاں روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کی زندگی اجیرن کردی ہے وہیں اس کے نتیجے میں ریلوے ملازمین اور مسافروں کے درمیان کشیدگی بھی بڑھنے لگی ہے۔
EPAPER
Updated: October 15, 2026, 10:52 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan
ممبئی کی مضافاتی لوکل ٹرینوں کی مسلسل تاخیر نے جہاں روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کی زندگی اجیرن کردی ہے وہیں اس کے نتیجے میں ریلوے ملازمین اور مسافروں کے درمیان کشیدگی بھی بڑھنے لگی ہے۔
ممبئی کی مضافاتی لوکل ٹرینوں کی مسلسل تاخیر نے جہاں روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کی زندگی اجیرن کردی ہے وہیں اس کے نتیجے میں ریلوے ملازمین اور مسافروں کے درمیان کشیدگی بھی بڑھنے لگی ہے۔ٹرینوں کی تاخیر سے برہم مسافروں کی جانب سے اسٹیشن ماسٹروں کے دفاتر میں گھس کر مارپیٹ کیے جانے کے حالیہ واقعات نے ریلوے ملازمین کی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔کلیان، امبرناتھ اور بدلاپور ریلوے اسٹیشنوں پر پیش آئے ان واقعات کے خلاف اسٹیشن ماسٹر ایسوسی ایشن نے سخت احتجاج کرتے ہوئے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور ملازمین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
رواں ہفتے کلیان، امبرناتھ اور بدلاپور جیسے مصروف ترین ریلوے اسٹیشنوں پر مشتعل مسافروں نے اسٹیشن ماسٹروں کے دفاتر پر دھاوا بول دیا اور عملے کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ان واقعات کے خلاف اسٹیشن ماسٹر اسوسی ایشن کے زیر اہتمام کلیان ریلوے اسٹیشن کے احاطے میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرے میں سینکڑوں ریلوے ملازمین اور یونین رہنماؤں نے شرکت کی اور ریلوے پروٹیکشن فورس ( آر پی ایف) اور گورنمنٹ ریلوے پولیس ( جی آر پی) کے دفاتر کے سامنے گھنٹوں شدید نعرے بازی کرکے اپنی برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: مخالفت کے باوجود سڑکوں کی کھدائی کی نئی پالیسی منظور
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے رہنما کندن کمار نے کہا کہ اسٹیشن ماسٹروں کی ذمہ داری ٹرینوں کی آمد و رفت کو بحال رکھنا،تکنیکی و انتظامی امور چلانا اور ہنگامی حالات میں تال میل قائم کرنا ہے۔ٹرینوں کا شیڈول بگڑنے میں ان ملازمین کا کوئی ذاتی عمل دخل نہیں ہوتا لیکن مشتعل ہجوم سیدھا ان کے کیبن میں گھس کر گالی گلوچ اور جان لیوا حملوں پر اتر آتا ہے۔ یونین نے واضح کیا کہ دوران ڈیوٹی سرکاری ملازمین پر ہاتھ اٹھانے والے عناصر کے خلاف سنگین دفعات کے تحت فوری مقدمات درج کرکے سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قانون کی بالادستی قائم رہ سکے۔
دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ممبئی مضافاتی ریلوے مسافر فیڈریشن کی صدر لتا ارگڑے نے ملازمین پر تشدد کی مذمت تو کی لیکن ساتھ ہی نظام کی خامیوں کا کچا چٹھا بھی کھول دیا۔انہوں نے کہا کہ مسافر تنظیم کسی بھی صورت میں قانون ہاتھ میں لینے یا ملازمین پر تشدد کی وکالت نہیں کرتی لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ریلوے انتظامیہ اور عوامی نمائندے اس تلخ حقیقت پر غور کریں کہ روزانہ خاموشی سے سفر کرنے والا پُرامن شہری اچانک اس قدر جارحانہ کیوں ہو گیا ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ ہر روز ٹرینوں کی گھنٹوں تاخیر کے باعث عام ملازمین اور مزدور دفاتر میں لیٹ مارک، تنخواہوں کی کٹوتی اور ملازمتوں سے برطرفی کے شدید دباؤ اور خوف کا شکار ہیں۔