مالی نقصان کی نشاندہی کے باوجود تعداد کی بنیاد پر پالیسی کو منظوری دینے پر اپوزیشن برہم، میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
EPAPER
Updated: October 15, 2026, 10:52 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
مالی نقصان کی نشاندہی کے باوجود تعداد کی بنیاد پر پالیسی کو منظوری دینے پر اپوزیشن برہم، میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
بی ایم سی کو مالی نقصان کی نشاندہی اور سخت مخالفت کے باوجود پائپ لائن اور کیبل وغیرہ بچھانے کیلئے ممبئی کی سڑکوں کی کھدائی کی پالیسی تبدیل کرنے کی تجویز اسٹینڈنگ کمیٹی میں منظور کئے جانے پر بدھ کو اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ اب تک سڑکوں کی کھدائی پر مرمت کی ذمہ داری بی ایم سی کی ہوتی تھی جو نئی پالیسی کے تحت کھدائی کرنے والی کمپنی کو دے دی گئی ہے جس کی وجہ سے بی ایم سی کو اس کام سے ہونے والی آمدنی میں ۶۰؍ فیصد کمی آئے گی۔
جب یہ تجویز منظوری کیلئے پیش کی گئی تو کانگریس کے ہاؤس لیڈر اشرف اعظمی، ایم این ایس کے کارپوریٹر یشونت راؤ قلعدار اور شیوسینا (یوبی ٹی) لیڈر یشودھر فنسے نے مطالبہ کیا کہ اس تجویز کو نظرثانی کیلئے واپس متعلقہ محکمے کے پاس بھیجا جائے جبکہ ایم آئی ایم کے کارپوریٹر ضمیر قریشی نے اس پالیسی کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
اشرف اعظمی نے میٹنگ میں بحث کرتے ہوئے کہا کہ جو کمپنیاں عام طور پر سڑکیں کھودتی ہیں وہ اڈانی، ٹاٹا پاور اور موبائل فون کے نیٹ ورک مہیا کرنے والی جیو جیسی کمپنیاں ہیں جن کی آمدنی بہت زیادہ ہے۔ ایک طرف عام اور غریب شہریوں سے جی ایس ٹی اور مختلف ٹیکس سے کوئی راحت نہیں دی جاتی اور دوسری طرف ان بڑی بڑی کمپنیوں سے کمانے کا موقع ایسے وقت میں چھوڑا جارہا ہے جبکہ بی ایم سی پر مختلف تعمیراتی پروجیکٹوں کی وجہ سے بہت زیادہ مالی بوجھ ہے حتیٰ کہ شہری انتظامیہ پیسے ادا کرنے کیلئے اپنے ’فکسڈ ڈپازٹ (ایف ڈی)‘ سے پیسے نکال رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پرانی پالیسی میں بی ایم سی ۴۰؍ ہزار روپے فی مربع میٹر کے حساب سے کمپنیوں سے چارج وصول کرتی تھی لیکن اب یہ رقم ۴؍ ہزار روپے فی مربع میٹر کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی حمایت پر انڈونیشیا میں اینڈریا بوچیلی کے کنسرٹ کی منسوخی کا مطالبہ
کارپوریٹر یشونت قلعدار نے کہا کہ سڑکوں کو کنکریٹ کا بنایا جارہا ہے اور ان کی کھدائی سے ان میں پہلے جیسی مضبوطی باقی نہیں رہتی اس لئے جو رقم وصول کی جاتی ہے، اس میں مزید اضافہ کیا جانا چاہئے تو بی ایم سی موجودہ آمدنی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھ رہی ہے۔کارپوریٹر ضمیر قریشی نے کہا کہ ہماری ہندوستانی کمپنی سوئزر لینڈ میں جاکر سڑک بنارہی ہے اور وہاں سڑک میں ’ڈکٹ(پائپ لائن اور کیبل بچھانے کیلئے خلاء چھوڑنا)‘ بنارہی ہے تو یہی پالیسی پورے شہر کیلئے کیوں نافذ نہیں کی جاتی؟ کیوں یہاں پکی سڑکوں کو کیبل یا پائپ لائن بچھانے کیلئے کھودنے کی ضرورت پیش آتی ہے؟
اخیر میں چیئر مین پربھاکر شندے نے پالیسی پر ووٹنگ کرائی۔ چونکہ حکمراں محاذ کے کارپوریٹروں کی تعداد زیادہ ہے اس لئے پالیسی کو منظوری مل گئی۔