Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان:کتوں کی نس بندی کے نام پرلاکھوں روپے کا گھپلہ

Updated: March 18, 2026, 2:04 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

میعاد ختم ہونے کے باوجود ٹھیکیدارنے کام جاری رکھ کر ۳۰؍لاکھ روپے وصول کر لئے،تحقیقات کا مطالبہ۔

Stray Dogs Are Causing Concern Among Citizens.Photo:INN
آوارہ کتوں کی وجہ سے شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔تصویر:آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کی حدود میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان ایک نیا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ میونسپل انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے آوارہ کتوں کی نس بندی کے نام پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی ہے۔ یہ معاملہ جنرل باڈی میٹنگ میں شدت کیساتھ اٹھایا گیا جس کے بعد تحقیقات کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نومنتخب عوامی نمائندوں نےالزام عائد کیا ہے کہ آوارہ کتوں کی نس بندی کا ٹھیکہ حاصل کرنے والے ادارے نے قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کی۔مذکورہ ادارے کی میعاد ختم ہونے کے باوجود بغیر کسی باضابطہ توسیع کے مزید ۳؍ ماہ تک کام جاری رکھا گیا اور اس دوران میونسپل خزانے سے تقریباً ۳۰؍ لاکھ روپے وصول کئے گئے۔ اس انکشاف کے بعد ایوان میں زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔مزید حیران کن انکشاف یہ سامنے آیا کہ ٹھیکیدار ادارے سے وابستہ ایک ڈاکٹر بیک وقت میونسپل کارپوریشن اور نجی ادارے دونوں سے تنخواہ حاصل کر رہا تھا جس سے انتظامیہ کی نگرانی اور شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس معاملے نے افسران میں کھلبلی مچا دی ہے اور اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ ہونے لگا ہے۔
 
 
دوسری جانب شہر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لئے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ رواں سال کے ڈی سی ایم سی کی حدود میں اب تک تقریباً ۱۸؍ ہزار افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ افسوسناک طور پر ان واقعات میں ۲؍ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں ایک ۷؍ سالہ بچہ بھی شامل ہے جبکہ ایک نوجوان نے ریبیز کے خوف سے خودکشی کر لی تھی۔
 
 
جنرل باڈی میٹنگ میں اس مسئلے پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ہنگامہ خیز بحث جاری رہی۔ عوامی نمائندوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں تو دوسری طرف انتظامیہ ٹھیکیداروں کی مبینہ کرپشن پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اراکین نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ نس بندی کا عمل صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہے اور عملی سطح پر کوئی موثر اقدامات نہیں کئے جا رہے جس کے باعث فنڈ کے غلط استعمال کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK