پورے کامپلکس کو سرسوتی مندر قرار دینے کے بعد مسلمانوں کو دی گئی متبادل جگہ بہت دور ہے۔
EPAPER
Updated: July 25, 2026, 10:42 AM IST | New Delhi
پورے کامپلکس کو سرسوتی مندر قرار دینے کے بعد مسلمانوں کو دی گئی متبادل جگہ بہت دور ہے۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کومسلم فریق کی اس درخواست پر۲۹؍جولائی کو سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جس میں کہا گیا ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے نماز کیلئے مختص کی گئی متبادل جگہ دھار کے متنازع بھوج شالا احاطے سے کافی دور ہے۔مسلم فریق نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ جمعہ کی نماز کیلئے بھوج شالا احاطے کے قریب مناسب جگہ فراہم کی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: خلیل شیخ خود کشی: رویندر دھنگیکر اور ان کی اہلیہ کو ضمانت قبل از گرفتاری
۲۲؍ جولائی کو چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ درخواست کو جمعہ کے روز سماعت کیلئے فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ تاہم سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے دن کی کارروائی کے اختتام پر معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ احمدی نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت کے افسران نماز کی ادائیگی کیلئےقریبی جگہ مختص نہیں کر رہے، جس کے باعث گزشتہ ۲؍ جمعہ نماز پہلے ہی نہیں ہوسکی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے دی گئی جگہ سڑک کے راستے تقریباً۱ء۳؍کلومیٹر دور ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس دعوے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ متبادل جگہ صرف۹۰۰؍ میٹر کے فاصلے پر ہے۔