ایران کا امریکہ کو پیغام، تہران نے عراق کے ذریعے پیش کی گئی جنگ بندی کی امریکی تجویز مسترد کی۔
EPAPER
Updated: July 25, 2026, 10:57 AM IST | Tehran
ایران کا امریکہ کو پیغام، تہران نے عراق کے ذریعے پیش کی گئی جنگ بندی کی امریکی تجویز مسترد کی۔
ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکہ ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکہ کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لئے مثبت رویہ اختیار کیا لیکن امریکہ کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لئے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لئے تمام ممکنہ متبادلات بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ۱۷؍جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکہ کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکہ اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہےلیکن موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔ خبر لکھے جانے تک امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: صدر شہاب الدین نے ۵؍ سالہ صدارتی مدت ختم ہونے سے قبل ہی استعفیٰ دیا
دوسری جانب ایران نے عراق کے توسط سے بھیجی جانے والی جنگ بندی کی امریکی تجویز باضابطہ طور پر مستردکی ہے ۔ ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ تجویز عراقی وزیر اعظم کے ذریعے تہران پہنچائی گئی تھی جسے ایرانی حکام نے ماننے سے انکار کر دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران کی جانب سے پیشکش مسترد کرنے کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول سے متعلق تنازع کا حل نہ ہونا ہے۔