Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منتر: پولیس کانسٹیبل نے وردی میں ’’استعفیٰ‘‘ دے دیا، اتراکھنڈ پولیس نے کہا: وہ پہلے ہی معطل تھا

Updated: July 25, 2026, 11:47 AM IST | New delhi

اتراکھنڈ پولیس کے کانسٹیبل شیر سنگھ نے دہلی کے جنتر منتر پر جاری طلبہ احتجاج کے دوران اسٹیج پر اپنی پولیس کی ٹوپی اور بیج اتار کر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ تاہم اتراکھنڈ پولیس نے واضح کیا کہ وہ پہلے ہی ۲۰؍ جولائی سے معطل تھا اور اس کے خلاف برطرفی کی کارروائی جاری تھی۔ پولیس نے اس کے بعض بیانات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے قانونی و محکمانہ کارروائی شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔

Constable Sher Singh with Abhijeet Dipke. Photo: X
کانسٹیبل شیر سنگھ ابھیجیت دپکے کے ساتھ۔ تصویر: ایکس

دہلی کے جنتر منتر میں جاری NEET پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کے دوران ایک ڈرامائی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب اتراکھنڈ پولیس کے کانسٹیبل شیر سنگھ نے احتجاجی اسٹیج پر آ کر اپنی وردی سے پولیس کا بیج اتارا اور کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت ڈپکے کے حوالے کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ پولیس کی ملازمت چھوڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں پر ہونے والی کارروائیوں اور امتحانی بے ضابطگیوں نے انہیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ شیر سنگھ نے دعویٰ کیا کہ اتراکھنڈ میں مختلف بھرتی امتحانات میں بھی بے ضابطگیاں ہوئیں اور پٹواری بھرتی امتحان کے سوالیہ پرچے فروخت کئے گئے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ احتجاج کے دوران انہوں نے نوجوانوں سے تحریک جاری رکھنے کی اپیل بھی کی۔

اس واقعے کے بعد اتراکھنڈ پولیس نے فوری وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ شیر سنگھ پولیس فورس میں فعال ڈیوٹی پر نہیں تھا بلکہ ۲۰؍ جولائی سے معطل تھا۔ پولیس کے مطابق وہ ۲۸؍ جون سے بغیر اجازت غیر حاضر تھا، جس کے بعد اس کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی تھی۔ حکام نے مزید بتایا کہ اس کی برطرفی کی کارروائی پہلے ہی زیرِ عمل تھی، اس لئے اسٹیج پر دیا گیا ’’استعفیٰ‘‘ قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ پولیس حکام نے یہ بھی کہا کہ شیر سنگھ کے خلاف پہلے سے ایک فوجداری مقدمہ درج ہے اور وہ ماضی میں جیل بھی جا چکا ہے۔ ان کے مطابق احتجاجی اجتماع میں وردی پہن کر دئیے گئے بیانات ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہیں، اس لئے اس کے خلاف مزید قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب احتجاجی قیادت نے شیر سنگھ کے اقدام کو نوجوانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی قرار دیا، جبکہ پولیس نے ان کے الزامات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ خبر لکھے جانے تک احتجاجی قیادت کی جانب سے پولیس کے تازہ مؤقف پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ واضح ہو کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب NEET کے مبینہ پرچہ لیک کے معاملے پر ملک گیر احتجاج جاری ہے، حکومت امتحانی اصلاحات اور سخت قانون سازی کا اعلان کر چکی ہے، جبکہ احتجاجی طلبہ اور تنظیمیں جوابدہی اور مزید کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK