Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرناٹک ہائی کورٹ کا آر ایس ایس لیڈر کو انتباہ، ’’زہریلی تقاریر‘‘ سے گریز کریں

Updated: June 03, 2026, 8:02 PM IST | Bengaluru

کرناٹک ہائی کورٹ نے آر ایس ایس سے وابستہ لیڈر ڈاکٹر کلڈکا پربھاکر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مستقبل میں ’’زہریلی‘‘ تقاریر سے گریز کریں اور عوامی بیانات میں احتیاط برتیں۔ عدالت مسلم خواتین اور شرح پیدائش سے متعلق ان کے متنازع تبصروں پر درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔

Karnataka High Court. Photo: INN
کرناٹک ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

کرناٹک ہائی کورٹ نے گزشتہ دن آر ایس ایس لیڈر ڈاکٹر پربھاکر بھٹ کلڈکا کو عوامی تقاریر میں احتیاط اور تحمل اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو معاشرے میں کشیدگی اور تنازعات کو جنم دیں۔ یہ معاملہ جسٹس ایم ناگاپرسنا کی عدالت میں اس وقت زیر سماعت آیا جب کلڈکا نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مسلم خواتین اور مسلم برادری کی شرح پیدائش سے متعلق ایسے تبصرے کیے جن سے فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ ملا۔ سماعت کے دوران شکایت کنندہ ایشوری پدمونجا، جو کرناٹک ریاست دلیتا ہکوگلا راجیہ سمیتی سے وابستہ ہیں، کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کلڈکا ماضی میں بھی متعدد بار مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دے چکے ہیں اور عوامی اجتماعات کو فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نئی دہلی: مالویہ نگر میں ہولناک آتشزدگی، ۲۱؍ ہلاک، متعدد زخمی؛ تحقیقات کا آغاز

شکایت کنندہ کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ کلڈکا کو مستقبل میں بھی اسی نوعیت کی تقاریر سے روکا جائے۔ اس پر عدالت نے زبانی ریمارکس دیتے ہوئے کہا، ’’اگر آپ زہر کے بغیر تقریر کریں تو پھر شکایت پر شکایت کیوں آتی ہے؟‘‘ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں قانونی بنیادوں پر فیصلہ سنائے گی۔ شکایت کے مطابق کلڈکا نے ایک عوامی تقریب میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی آبادی میں اضافے کا موازنہ کیا تھا اور بعض علاقوں، خصوصاً اُلال میں ہندو آبادی کے تناسب میں کمی پر تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے مبینہ طور پر ہندو خاندانوں پر زور دیا تھا کہ ہر گھر میں کم از کم تین بچے پیدا کیے جائیں تاکہ ہندو آبادی میں اضافہ ہو۔

شکایت کنندہ کا موقف ہے کہ اس قسم کے بیانات نہ صرف مذہبی بنیادوں پر نفرت کو فروغ دیتے ہیں بلکہ خواتین کے وقار کو بھی مجروح کرتے ہیں اور عوامی امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر کلڈکا کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا ۲۰۲۳ء کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ان دفعات میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے، اشتعال انگیزی اور امن عامہ متاثر کرنے جیسے الزامات شامل ہیں۔ عدالت نے اس مقدمے کو دیگر متعلقہ عرضیوں کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے ۱۶؍ جون کو اگلی سماعت مقرر کر دی ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کلڈکا پہلے ہی عدالت کے سامنے اس طرح کے متنازع بیانات نہ دہرانے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مرکزی وزیر تعلیم مستعفی نہ ہوئے تو۶؍ جون کے احتجاج میں شریک ہوں گا: سونم وانگچک

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ۸۳؍ سالہ کلڈکا قانونی تنازع میں گھرے ہوں۔ جنوبی کنڑ ضلع سے تعلق رکھنے والے آر ایس ایس کے اس سینئر کارکن کے خلاف ماضی میں بھی متعدد مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ ان میں ’’لو جہاد‘‘، آبادی کے تناسب، مذہبی شناخت اور خواتین سے متعلق متنازع بیانات شامل رہے ہیں۔ سماعت کے دوران شکایت کنندہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کلڈکا کے خلاف اب تک ۱۲؍ ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں، جن میں زیادہ تر دکشینا کنڑ ضلع سے متعلق ہیں۔ ان مقدمات میں مذہبی منافرت، نفرت انگیز تقریر، خواتین کے وقار کی توہین اور اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات جیسے الزامات شامل ہیں۔ حال ہی میں ۲؍ جون کو بھی بنٹوال دیہی پولیس نے دکشینا کنڑ کے ایک گاؤں میں منعقدہ تعزیتی اجتماع کے دوران مبینہ مسلم مخالف تقریر پر کلڈکا کے خلاف ایک نئی ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس طرح ان کے بیانات ایک بار پھر قانونی اور سیاسی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK