کے ڈی ایم سی کے پاس’ کورونا سیلف ٹیسٹنگ کٹ ‘کا کوئی ڈیٹا نہیں

Updated: January 15, 2022, 8:21 AM IST | Ajaz Abdul ghani | Mumbai

کچھ شہری سیلف ٹیسٹنگ کٹ سے کورونا کی جانچ کر رہے ہیں۔ اس کا کوئی ڈیٹا میونسپل انتظامیہ کے پاس نہیں ہے۔ اس بارے میں محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ جو شہری اپنے گھر پر ہی سیلف کٹ سے کورونا کی جانچ کررہے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ میونسپل انتظامیہ کواطلاع دیں

The administration will not have a record of the number of patients by conducting self-tests at home instead of having coronary tests at the laboratory or code center.
لیبارٹری یاپھر کووڈ سینٹر پر کوروناکی جانچ کرانے کے بجائے گھر پرخود ٹیسٹ کرنے سے انتظامیہ کے پاس مریضوں کی تعداد کا ریکارڈ نہیں ہوگا۔

کلیان:کورونا جانچ رپورٹ میں تاخیر اور لیباریٹریز پر دباؤ کم کر نے کے مقصد سے  انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ( آئی سی ایم آر) نے گھر میں ہی کورونا جانچ کے لئے تیار کی گئی جانچ کٹ’ کووی سیلف‘ کو منظوری دی تھی۔لیکن اب یہی سیلف ٹیسٹنگ کٹ کے ذریعہ کورونا جانچ کرنے والے افراد کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن ( کے ڈی ایم سی) انتظامیہ کے لئے درد سر ثابت ہو رہے ہیں۔ یومیہ کتنے شہری اپنے گھروں میں  ٹیسٹنگ کٹ سے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروا رہے ہیں  اس کا کوئی ڈیٹا محکمہ صحت کے پاس نہیں ہے۔ 
     کے ڈی ایم سی کی حدود میں کورونا پازیٹیوٹی ریٹ ۲۳؍ فیصد ہے۔ اس در میان کچھ شہری سیلف ٹیسٹنگ کٹ سے کورونا کی جانچ کررہے ہیں۔ اس کا کوئی ڈیٹا میونسپل انتظامیہ کے پاس نہیں ہے۔ اس بارے میں محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ جو شہری اپنے گھر پر ہی سیلف کٹ سے کورونا کی جانچ کررہے ہیں ان کی ذاتی ذمہ داری ہے کہ وہ میونسپل انتظامیہ کواطلاع دیں۔ 
    عیا ں رہے کہ کے ڈی ایم سی میں یومیہ اوسطاً۰۰ ۱۲؍ سے۰۰ ۱۵؍ کے در میان کورونا کے مر یض پائے جارہے ہیں۔ کے ڈی ایم سی کی حدودمیں ۳۲؍ ٹیسٹنگ سینٹروں پر یومیہ ۵؍ ہزار سے زائد افراد کی آر ٹی پی سی آر اور اینٹی جن ٹیسٹ کی جارہی ہے۔  رکمنی بائی سر کاری اسپتال اور شاستری نگر سر کاری اسپتال میں میونسپل انتظامیہ کی اپنی کورونا ٹیسٹ لیب اور پی پی پی بنیاد پر چلائے جانے والے لیب میں بھی کورونا کی جانچ ہورہی ہے۔ شہر میں بڑ ھتے کورونا معاملات کی وجہ سے شہر یوں میں ڈر و خوف کاماحول پایا جارہا ہے۔ عام لوگوں کی سمجھ ہے کہ سر کاری اسپتال میں کورونا جانچ کر نے پر رپورٹ مثبت ہی آتی ہے۔ لہٰذا بیشتر شہری بازار سے سیلف کٹ خر ید کر کورونا کی جانچ کررہے ہیں۔ فی الوقت بازار میں ۲؍ قسم کی سیلف کٹ دستیاب ہے جن میں سے ایک سیلف کٹ میں موجود کیو آر کوڈ اسکین کرنے پر اس کا ندارج آئی سی ایم آر کے پاس ہوتا ہے ۔ کووڈ اسکین کئے بغیر ٹیسٹ رپورٹ موصول نہیں ہو تی ہے جبکہ دوسری قسم کی سیلف کٹ میں کیو آر کوڈ کا انتظام نہیں ہے ۔ لہٰذا مر یض کی رپورٹ مثبت ہے یا منفی، یہ اسی تک محدود رہتی ہے۔ چونکہ میونسپل انتظامیہ کے پاس افرادی قوت ناکافی ہے اس لئے سیلف کٹ کس نے خریدی اور کس نے اپنے گھر پر کورونا کی جانچ کی، اس کا ڈیٹا جمع کرنا ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب سیلف کٹ  کے ذریعہ جانچ کرنے پر اگر رپورٹ مثبت آئی تو ایسے مریض کہاں اور کس طر ح کا علاج کروا رہے ہیں اس تعلق سے بھی میونسپل انتظامیہ لا علم ہے۔ اگر دوا فروش سیلف ٹیسٹنگ کٹ خر ید نے والے شخص کے پتہ اور موبائل کا ریکارڈ رکھے تو اس بنیاد پر سیلف ٹیسٹنگ کٹ استعمال کر نے والوں کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔ 

covid-19 Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK