Updated: July 27, 2026, 6:04 PM IST
| Mumbai
کیرالا سے تعلق رکھنے والے آر ایس ایس کے نظریاتی لیڈر ٹی جی موہن داس کے ایک انٹرویو میں دیے گئے متنازع بیانات پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف سخت کارروائی، حتیٰ کہ گولی چلانے کی بات کی۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے مظاہرین اور خواتین کے بارے میں بھی ایسے ریمارکس دیے جنہیں ناقدین نے نفرت انگیز اور جنس پرستانہ قرار دیا ہے۔
ٹی جی موہن داس۔ تصویر: آئی این این
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ سمجھے جانے والے کیرالا کے نظریاتی لیڈر ٹی جی موہن داس کے ایک انٹرویو میں دیے گئے متنازع بیانات نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ یوٹیوب چینل پاتھریکا کو دیے گئے انٹرویو میں موہن داس نے کہا کہ اگر انہیں اختیار حاصل ہوتا تو وہ نئی دہلی کے جنتر منتر کے اطراف کرفیو نافذ کرتے اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت طاقت استعمال کرتے۔ ان کے مطابق وہ جنتر منتر کے چار مربع کلومیٹر کے دائرے میں کرفیو نافذ کرتے، مظاہرین کو تین مرتبہ منتشر ہونے کی ہدایت دیتے اور اس کے بعد پولیس کو فائرنگ کا حکم دیتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی کارروائی کے نتیجے میں چند گھنٹوں میں حالات قابو میں آ جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: گڈچرولی : پنچایت صدر اور کانگریس کے ۹؍ کارپوریٹربی جے پی میں شامل
موہن داس نے احتجاج میں شریک افراد کو بھی سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ اگر انہیں نہ روکا جائے تو وہ سنگین جرائم میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ اسی انٹرویو کے دوران انہوں نے احتجاج میں شریک خواتین سے متعلق بھی ایسے ریمارکس دیے جنہیں ناقدین نے نفرت انگیز، توہین آمیز اور جنس پرستانہ قرار دیا ہے۔ ان کے یہ بیانات بھی سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔ یہ متنازع گفتگو ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ ہفتوں میں جنتر منتر پر طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے تعلیمی شعبے سے متعلق مطالبات اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران پولیس کارروائی بھی دیکھنے میں آئی، جبکہ بعد میں احتجاج ختم ہونے کے بعد مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’من کی بات‘ میں وزیر اعظم کی پانی کے تحفظ کی خصوصی اپیل
ٹی جی موہن داس ماضی میں بھی اپنے متنازع بیانات کے باعث خبروں میں رہ چکے ہیں۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے انٹلیکچوئل سیل کے ریاستی کنوینر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ بھارتیہ وچارا کیندرم میں جنرل سیکریٹری اور بعد ازاں نائب صدر کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔ اس کے علاوہ وہ آر ایس ایس سے وابستہ ادارے ایودھیا پرنٹرز کے جنرل منیجر اور بی جے پی کے اخبار جنم بھومی کے جنرل منیجر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ تاحال اس معاملے پر متعلقہ حکام یا آر ایس ایس کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔