Updated: July 04, 2026, 4:42 PM IST
| Tehran
ایران کے مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تہران میں جاری آخری رسومات کے دوران ان کے تابوت کے ساتھ رکھا گیا ۱۴؍ ماہ کی پوتی زہرہ محمدی گلپایگانی کا چھوٹا تابوت دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا۔ زہرہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ جاں بحق ہوئی تھیں۔ اس منظر کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں، جہاں متعدد صارفین نے ایک کم سن بچی کی ہلاکت پر افسوس اور غم و غصے کا اظہار کیا، جبکہ ایران میں لاکھوں افراد سوگ اور انتقام کے نعروں کے ساتھ آخری رسومات میں شریک ہو رہے ہیں۔
ایران کے مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے لاکھوں سوگواروں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کو بھی جذباتی کر دیا۔ خامنہ ای کے قومی پرچم میں لپٹے تابوت کے ساتھ رکھا گیا ان کی ۱۴؍ ماہ کی پوتی زہرہ محمدی گلپایگانی کا ننھا تابوت جنازے کی تقریب کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا منظر بن گیا۔ اس کی تصاویر اور ویڈیوز چند ہی گھنٹوں میں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو گئیں، جہاں صارفین نے ایک شیر خوار بچی کی ہلاکت کو جنگ کی انسانی قیمت قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ علی خامنہ ای ۲۸؍ فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں ان کے خاندان کے متعدد افراد بھی جاں بحق ہوئے، جن میں ان کی ۱۴؍ ماہ کی پوتی زہرہ بھی شامل تھیں۔ تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں منعقد ہونے والی آخری رسومات میں خامنہ ای کے بڑے تابوت کے ساتھ زہرہ کا چھوٹا تابوت رکھا گیا، جس نے تقریب میں شریک ہزاروں افراد کو آبدیدہ کر دیا۔ جنازے کی تقریب میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی، جبکہ ایرانی حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں کروڑوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ ایرانی پرچم میں لپٹے خامنہ ای کے تابوت پر ان کی سیاہ عمامہ بھی رکھا گیا تھا، جبکہ ان کے خاندان کے دیگر افراد کے تابوت بھی ساتھ موجود تھے۔ حکام کے مطابق آخری رسومات چھ روز تک جاری رہیں گی اور اس دوران میت کو تہران، قم، عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا اور آخر میں مشہد منتقل کیا جائے گا، جہاں تدفین عمل میں آئے گی۔
تقریب کے دوران سوگواروں نے سرخ بینرز اٹھا رکھے تھے، جو ایران میں انتقام کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ شرکاء نے ’’مرگ بر امریکہ‘‘ اور ’’انتقام‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔ ایک ۲۷؍ سالہ سوگوار نے اسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں یہاں اپنے محبوب رہنما علی خامنہ ای کو الوداع کہنے آیا ہوں۔ میں نے کبھی ایسا دن دیکھنے کی توقع نہیں کی تھی۔ کاش میں اس سانحے سے پہلے مر جاتا۔‘‘
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت کئی اعلیٰ حکام تقریب کے دوران آبدیدہ دکھائی دیے، جبکہ انقلابی گارڈز کے نئے سربراہ احمد واحدی نے بھی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ہندوستان کی جانب سے بھی سرکاری نمائندے جنازے میں شریک ہوئے۔
دوسری جانب، زہرہ کے ننھے تابوت کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں۔ متعدد صارفین نے لکھا کہ جنگوں میں سب سے زیادہ قیمت معصوم بچے چکاتے ہیں، جبکہ بہت سے افراد نے ایک ۱۴؍ ماہ کی بچی کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے جنگ کا دردناک پہلو قرار دیا۔ کئی پوسٹس میں اس ننھے تابوت کو پوری تقریب کی سب سے دل دہلا دینے والی تصویر قرار دیا گیا، جس نے عالمی سطح پر بحث کو بھی جنم دیا۔ متعدد صارفین نے لکھا کہ ’’جنگ میں سب سے بھاری تابوت ہمیشہ سب سے چھوٹا ہوتا ہے‘‘، جبکہ ایک اور وائرل تبصرے میں کہا گیا، ’’۱۴؍ ماہ کی بچی کا تابوت کسی بھی سیاسی بحث سے بڑھ کر جنگ کی انسانی قیمت بیان کرتا ہے۔‘‘ کئی صارفین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ معصوم بچوں کی جانیں کسی بھی تنازع کا حصہ نہیں بننی چاہئیں، جبکہ متعدد پوسٹس میں زہرہ کے چھوٹے تابوت کو ’’جنگ کی خاموش مگر سب سے طاقتور تصویر‘‘ قرار دیا گیا۔ بعض صارفین نے کہا کہ اس ایک منظر نے پورے جنازے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی اور دنیا کو ایک بار پھر یاد دلایا کہ مسلح تنازعات کی سب سے بڑی قیمت عام شہری اور معصوم بچے ادا کرتے ہیں۔
خامنہ ای کی میت پیر تک تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھی جائے گی، جس کے بعد شہر میں بڑے جلوس کا اہتمام ہوگا۔ پھر میت کو قم، عراق کے مقدس مقامات اور آخر میں مشہد منتقل کیا جائے گا، جہاں جمعرات کو تدفین متوقع ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آخری رسومات میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے اور سیکوریٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔