پڈوچیری میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا ’’ اس یونین ٹیریٹری کی ترقی کیلئے مودی نے کچھ نہیں کیا ‘‘
EPAPER
Updated: April 06, 2026, 10:54 AM IST
پڈوچیری میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا ’’ اس یونین ٹیریٹری کی ترقی کیلئے مودی نے کچھ نہیں کیا ‘‘
مرکز کے زیر انتظام خطہ پڈوچیری میں آئندہ۹؍ اپریل کو اسمبلی انتخاب کیلئے ووٹنگ ہونی ہے۔ اسی سلسلے میں سنیچر کو یہاں ایک ریلی میں کانگریس کے لیے انتخابی تشہیر کی ذمہ داری صدر ملکارجن کھرگے نے سنبھالی اور بی جے پی و آر ایس ایس پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے پڈوچیری کے اناتھیڈل میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت پر پڈوچیری کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ بی جے پی اور اس کی حامی جماعتیں ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام خطوں کے حقوق کو پامال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس یونین ٹیریٹری کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا۔
کانگریس صدر نے لوگوں کی زبردست بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پڈوچیری کو مکمل اختیارات ملنے چاہئیں کیونکہ لیفٹیننٹ گورنر منتخب حکومت کے معاملات میں مسلسل مداخلت کر رہے ہیں۔ کھرگے نے اسے کانگریس کی ’پہلی گارنٹی‘ قرار دیا اور کہا کہ پارٹی پڈوچیری کو مکمل ریاستی درجہ دلانے کیلئے پُر عزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پڈوچیری اس وقت۳۰؍ فیصد بدعنوانی و کمیشن خوری کا شکار ہے، ساتھ ہی اے آئی این آر سی اور بی جے پی کی حکومت اس خوبصورت خطے کو لوٹ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مختلف پروجیکٹوں کا خرچ بڑھا کر دکھایا جا رہا ہے، فنڈز کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور ترقیاتی کام ٹھپ پڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بسوا شرما کی اہلیہ کے پاس ۳؍ ملکوں کے پاسپورٹ!
ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانے پر لیا۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی نے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا وعدہ کیا تھا، لیکن زمین سے لے کر آسمان تک، ایئرپورٹس سے بندرگاہوں تک سب کچھ ایک ہی شخص گوتم اڈانی کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ این ڈی اے حکومت عوامی املاک اور مذہبی زمینوں تک کو ہضم کر رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ۵؍ سال میں اے آئی این آر سی-بی جے پی حکومت نے۴۵۰؍ سے زائد شراب کی دکانیں اور ریسٹورنٹس کھولے، دوسری طرف عوام کو صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ ان کے مطابق ریاست میں سرمایہ کاری صرف شراب کی فیکٹریوں تک محدود ہو گئی ہے۔
کانگریس صدر نے منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ڈرگ مافیا کی سرگرمیوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے پوری نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے جس کی ذمہ داری ’ڈبل انجن‘ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انھوں نے پڈوچیری میں کانگریس کی حکومت کو یاد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پڈوچیری کی اصل ترقی کانگریس دور میں ہوئی، جب فلاحی اسکیمیں شروع کی گئیں، اسپتال، اسکول اور بنیادی ڈھانچہ تیار کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے انہی منصوبوں کے نام بدل کر اپنا کریڈٹ لینے کی کوشش کی اور یہی ’مودی اسٹائل‘ ہے۔ مودی اسٹائل کا مطلب اصل توجہ عوامی فلاح کے بجائے تشہیر پر دینا ہے۔ کھرگے نےمزید کہا کہ کانگریس حکومت کے دوران راشن کی دکانیں قائم کی گئیں، طلبہ کو مفت تعلیم، یونیفارم، سائیکل، ناشتہ اور مڈ ڈے میل فراہم کیا گیا، کسانوں کو آبی وسائل کے بہتر انتظام اور بجلی کی فراہمی سے فائدہ پہنچایاگیا۔ آج پڈوچیری کے عوام کی صحت، بچوں کا مستقبل اور سلامتی خطرے میں ہے اور بدعنوانی ہر شعبے میں سرایت کر چکی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھیں اور اس کا استعمال دانشمندی سے کریں۔
کھرگے نے کانگریس کی جانب سے پڈوچیری کے لیے متعدد گارنٹیوں (ضمانتوں ) کا اعلان بھی کیا، جن میں پرائمری سے لے کر ریسرچ سطح تک مفت تعلیم، سرکاری و نجی کالجوں کے طلبہ کو ماہانہ۲؍ ہزار روپے وظیفہ، تمام خاندانوں کو ہر ماہ۲۵۰۰؍ روپے مالیت کا راشن، شادی شدہ خواتین کے لیے سونے کی سبسڈی اور پڈوچیری کو مکمل ریاستی درجہ دلانے کا وعدہ شامل ہے۔