• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جامعہ عربیہ منہاج السنہ میں علماء کی موجودگی میں ’خطباتِ محمودیہ‘ کا اجراء

Updated: October 18, 2026, 1:09 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Malvani

سنیچر کی دوپہر کو جامعہ عربیہ منہاج السنہ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ’خطبات محمودیہ ‘کا علماء اورائمہ کے ذریعے اجراء عمل میں آیا۔ اس میں ۵۰؍ سے زائد عنوانات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

A scene showing the commencement of the `Khutbat-e-Mahmoodiya` (sermons) by scholars at Jamia Arabia Minhaj-us-Sunnah. Photo: INN
علماء کے ذریعے جامعہ عربیہ منہاج السنہ میں خطبات محمودیہ کے اجراء کا منظر۔ تصویر: آئی این این

سنیچر کی دوپہر کو جامعہ عربیہ منہاج السنہ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ’خطبات محمودیہ ‘کا علماء اورائمہ کے ذریعے اجراء عمل میں آیا۔ اس میں ۵۰؍ سے زائد عنوانات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے مرتب اووَل مسجد کے خطیب وامام مولانا طفیل احمد ندوی ہیں ۔ 
تقریب اجراء کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں مولانا حلیم اللہ قاسمی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر )نے سورہ رحمٰن کی آیات ِمبارکہ سےگفتگو کا آغاز کیا اور کہا کہ’’جس خطبات محمودیہ کا اجراء عمل میں آیا ہے، اس سے متعلق فاضل نوجوان کی ابتدائی گفتگو سے معلوم ہوا کہ یہ تقریبا ً۵۰؍ مختلف عناوین پر مشتمل ہے اور اس میں سلگتے ہوئے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے مشمولات تو نگاہ سے نہیں گزرے مگر مرتب نے اپنے ابتدائی کلمات میں جو کچھ بتایا ہے، امید ہے وہی چاشنی ملے گی اور علماء وائمہ میں مقبول ہوگا۔ ‘‘
مولانا کے مطابق’’ خطبات ِجمعہ کی ترتیب کوئی نئی بات نہیں، یہ پرانی روایت ہے۔ علم تو کتابوں سے حاصل ہوتا ہے مگر بزرگوں کے نقشِ قدم پرچلنے اور ان کے ملفوظات کےمطالعے سے عمل کا سلیقہ آتا ہے۔ یہ محاورہ ہے کہ سچی بات کڑوی ہوتی ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ اس کے لئے تلخ لب ولہجہ اختیار کیا جائے۔ اس کی مثال انبیاء علیہم السلام کی زندگی اور ان کے اقوال ہیں اور خود باری تعالی نے اپنے مقدس کلام میں یہی حکم فرمایا ہے۔ ‘‘ مولانا حلیم اللہ قاسمی نےمولانا شبیر احمدعثمانی ؒکے حوالے سے بتایاکہ ’’آپ ؒنے فرمایا کہ بات سچی کہو، موقع محل کی مناسبت سے کہو اور نرم لب ولہجہ میں کہو۔ ‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسی طرح مولانا سیدابوالحسن علی میاں ندوی ؒکہتے تھے کہ’’ الفاظ کا بھی ٹمپریچر ہوتا ہے، ادیب کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان کا استعمال موقع محل کی مناسبت سے کرے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی:۲۵۰؍یونٹ تک سستی بجلی فراہم کرنے کا مطالبہ!

مولانا مفتی محمدافضل اشاعتی (استاد حدیث اکل کوا) نے خطبات محمودیہ کے اجراء پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ’’لیڈرشپ کے لئے فن خطابت بہت ضروری ہے، خود باری تعالیٰ نے اپنے ہر نبی کو خطابت کا ملکہ عطا فرمایاتھا۔ اس تناظرمیں مولانا نے فرعون کے دربار میں حضرت موسیٰ اوران کے بھائی حضرت ہارون سے متعلق واقعے کو آیاتِ  قرآنی کے ذریعے تفصیل سے بتایا۔ ‘‘ 
مولانا افضل اشاعتی نے یہ بھی کہاکہ ’’محض رٹا مارنے کا نام خطابت نہیں بلکہ نکات ِقرآنی پر ہماری توجہ ہونا ضروری ہے۔ ‘‘ 
خطبات ِ محمودیہ کے مرتب مولانا طفیل احمد ندوی نے کہا کہ ’’ ان خطبات کو یکجا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ائمہ کو مختلف موضوعات پر خطاب کا مواد ملے، وہ اس سے استفادہ کرسکیں کہ ہمارا اور ہمارے بڑوں کا کیا انداز ہوا کرتا ہے۔ اس مجموعے کو میں نے اپنی دادی مرحومہ سے موسوم کیا ہے، کیونکہ ان کی شفقت سے راہیں آسان ہوئیں اور والدین کی تربیت اور اساتذہ کی شفقتوں اوران کی دعاؤں نے اس مقام تک پہنچایا۔ ‘‘
نظامت کے فرائض مولانا بنی نعیم حسنی نے انجام دیئے جبکہ دیگر علماء نےمولانا طفیل ندوی کی اس کاوش کی ستائش کی۔ رسمِ اجراء کے دوران مولانا نوشاد احمد صدیقی، مولانا عبدالقدوس شاکر حکیمی، مولاناعبدالسلام قاسمی، مفتی محمد انصارقاسمی، مولانا شاہ امان اللہ ندوی، مولانا ثابت علی نقشبندی، مولانا رستم عادل قاسمی، مولانا محمدرضوان قاسمی، مولانا انصارالحق قاسمی، مولانا نذیرالاسلا م مظاہری اور دیگر علماء وائمہ اورجامعہ کے اساتذہ وطلبہ موجود تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK