Inquilab Logo Happiest Places to Work

شاہ چارلس سوم ذاتی ٹیکس تفصیلات عام کرنے والے پہلے برطانوی بادشاہ ہونگے

Updated: June 22, 2026, 8:59 PM IST | London

برطانیہ کے شاہ چارلس سوم شاہی مالیات میں شفافیت بڑھانے کے لیے اپنی ذاتی ٹیکس معلومات عام کرنے والے پہلے بادشاہ بننے جا رہے ہیں۔ بکنگھم پیلس کے مطابق یہ اقدام بادشاہت کو جدید بنانے اور شاہی مالی معاملات کو عوام کے لیے زیادہ قابلِ فہم بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ مالی سال ۲۵۔۲۰۲۴ء کی تفصیلات آئندہ ہفتے جاری کی جائیں گی، جبکہ اگلے مالی سال کی ٹیکس معلومات آڈٹ مکمل ہونے کے بعد شائع کی جائیں گی۔

King Charles III. Photo: INN
کنگ چارلس سوم۔ تصویر: آئی این این

برطانیہ کے شاہ چارلس سوم شاہی تاریخ میں ایک نئی روایت قائم کرنے جا رہے ہیں۔ وہ پہلے برطانوی بادشاہ ہوں گے جو اپنی ذاتی ٹیکس معلومات عوام کے سامنے پیش کریں گے۔ بکنگھم پیلس کے مطابق اس اقدام کا مقصد شاہی مالیات کے بارے میں شفافیت کو فروغ دینا اور عوام کو یہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ شاہی خاندان کی مالیات کس طرح منظم کی جاتی ہیں۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق مالی سال ۲۵۔۲۰۲۴ء سے متعلق شاہی مالیاتی تفصیلات اگلے ہفتے جاری کی جائیں گی۔ ان دستاویزات میں شاہ چارلس کی ذاتی ٹیکس معلومات بھی شامل ہوں گی۔ اسی طرح مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء کے لیے ان کی ٹیکس تفصیلات اگلے برس آڈٹ مکمل ہونے کے بعد شائع کی جائیں گی۔ اگرچہ کسی حکمران برطانوی بادشاہ نے اس سے قبل اپنی ذاتی ٹیکس معلومات ظاہر نہیں کیں، تاہم شاہ چارلس نے اس روایت کی بنیاد اس وقت رکھی تھی جب وہ ویلز کے شہزادہ تھے۔ اس دور میں بھی وہ رضاکارانہ طور پر اپنی آمدنی اور ٹیکس سے متعلق بعض معلومات جاری کرتے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: خوراک، پانی اور صحت کو سیاسی مفادات کے تابع نہ بنایا جائے: پاپ لیو

بکنگھم پیلس کے ترجمان نے کہا کہ ’’اگرچہ یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی حکمراں بادشاہ اپنی ذاتی ٹیکس معلومات شیئر کر رہا ہے، لیکن یہ عمل اس وقت بھی اپنایا گیا تھا جب ان کی عظمت ویلز کے شہزادہ تھے۔‘‘ ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ خود بادشاہ کی خواہش پر کیا گیا اور اسے تخت نشینی کے بعد اختیار کی گئی اصلاحات اور موافقت کے سلسلے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ محل کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف ٹیکس معلومات شائع کرنا نہیں بلکہ شاہی مالیات سے متعلق معلومات کو زیادہ واضح، قابلِ رسائی اور عوام کے لیے قابلِ فہم بنانا بھی ہے۔ اسی سلسلے میں شاہی خاندان مالی شفافیت بڑھانے کے مزید امکانات پر بھی غور کر رہا ہے۔ شاہ چارلس کی نجی آمدنی مختلف ذرائع سے حاصل ہوتی ہے، جن میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی، بالمورل اور سینڈرنگھم جیسی نجی جائیدادوں سے حاصل ہونے والی رقم اور ذاتی بچت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں ڈچی آف لنکاسٹر سے بھی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جو زمینوں، تجارتی جائیدادوں اور سرمایہ کاری پر مشتمل ایک نجی شاہی اسٹیٹ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان: اسرائیلی حملے میں معروف ماہر ماحولیات مونا خلیل کا انتقال

ڈچی آف لنکاسٹر مالی سال ۲۵۔۲۰۲۴ء کے دوران شاہ چارلس کے لیے تقریباً ۸ء۲۶؍ ملین پاؤنڈ آمدنی کا ذریعہ بنا۔ ۲۰۲۳ء میں حکومت اور شاہی خاندان کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت شاہ چارلس اپنی نجی آمدنی پر رضاکارانہ طور پر انکم ٹیکس اور بعض اثاثوں پر کیپیٹل گین ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں۔ دوسری جانب شہزادہ ولیم، جو شاہ چارلس کے بعد تخت کے وارث ہیں، اپنی آمدنی کے حوالے سے مختلف انتظام رکھتے ہیں۔ انہیں ڈچی آف کارن وال سے آمدنی حاصل ہوتی ہے، جو تقریباً ایک ارب پاؤنڈ مالیت کی موروثی جائیداد سمجھی جاتی ہے۔ اس اسٹیٹ میں اوول کرکٹ گراؤنڈ اور ڈارٹمور جیل سمیت متعدد اہم اثاثے شامل ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے دوران شہزادہ ولیم کو اس اسٹیٹ سے تقریباً ۲۳؍ ملین پاؤنڈ کی آمدنی حاصل ہوئی۔ اگرچہ وہ رضاکارانہ طور پر انکم ٹیکس کی بلند ترین شرح ادا کرتے ہیں، تاہم ادا کیے گئے ٹیکس کی درست رقم عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: بلجیم کے خلاف ڈرا کے بعد ایران کا لاس اینجلس کے نام شکریہ کا پیغام

آئندہ ہفتے بکنگھم پیلس سوورین گرانٹ کے اکاؤنٹس بھی جاری کرے گا۔ سوورین گرانٹ وہ سرکاری فنڈ ہے جس سے شاہی خاندان کی سرکاری سرگرمیوں اور فرائض کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بادشاہ کے مالی معاملات پر ایک الگ اور زیادہ تفصیلی رپورٹ بھی شائع کی جائے گی، جبکہ ڈچی آف لنکاسٹر کے مکمل اکاؤنٹس بھی منظرِ عام پر لائے جائیں گے۔ بکنگھم پیلس کے ترجمان نے کہا کہ ’’مسلسل بہتری اور جوابدہی کے بارے میں عوامی فہم کو فروغ دینے کے لیے شاہی خاندان شفافیت کو مزید بڑھانے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’سادہ الفاظ میں کہا جائے تو ہم جدیدیت اور ارتقا کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ شاہ چارلس کے اس فیصلے کو برطانوی بادشاہت کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں شاہی ادارے اور عوام کے درمیان اعتماد اور شفافیت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK