دنیا میں بڑھتی بھوک، تنازعات اور غذائی عدم تحفظ کے تناظر میں پاپ لیو نے عالمی برادری کو کثیرالجہتی تعاون مضبوط بنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ خوراک، پانی اور صحت جیسی بنیادی ضروریات کو سیاسی و معاشی مفادات کی نذر نہ کیا جائے۔
EPAPER
Updated: June 22, 2026, 7:56 PM IST | Vatican City
دنیا میں بڑھتی بھوک، تنازعات اور غذائی عدم تحفظ کے تناظر میں پاپ لیو نے عالمی برادری کو کثیرالجہتی تعاون مضبوط بنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ خوراک، پانی اور صحت جیسی بنیادی ضروریات کو سیاسی و معاشی مفادات کی نذر نہ کیا جائے۔
پاپ لیو نے پیر کو حکومتوں پر زور دیا کہ خوراک، پانی اور صحت کی سہولیات تک رسائی کو جغرافیائی سیاسی مفادات کے تابع نہ بنایا جائے، اور بھوک و افلاس اور اس کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کیلئے کثیرالجہتی تعاون کو ازسرِنو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا۔ روم میں اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام (WFP) کے ہیڈکوارٹرز میں اس کے ایگزیکٹو بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے پونٹیف نے کہا کہ دنیا کو مسلسل بحرانوں کا سامنا ہے، جن میں تنازعات، دائمی غذائی عدم تحفظ، معاشی عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی کمزوریاں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ اب صرف یہ نہیں رہا کہ مداخلت کیسے کی جائے، بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ایسا نظام کیوں مسلسل انہی مسائل کو جنم دیتا ہے جنہیں بعد میں درست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاپ لیو نے خبردار کیا کہ کثیرالجہتی نظام کے بحران کے باعث بین الاقوامی نظام تیزی سے تقسیم کا شکار ہو رہا ہے، جہاں ممالک باہمی تعاون کے بجائے قومی سلامتی اور معاشی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی ترجیحات میں بڑھتے ہوئے عدم توازن پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’تنازعات کو خوراک فراہم کرنا لوگوں کو خوراک پہنچانے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی امدادی کوششیں اکثر سیاسی فیصلوں، بیوروکریسی اور معاشی مفادات کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں۔
پاپ لیو نے زور دیا کہ بھوک صرف ایک انسانی مسئلہ نہیں بلکہ تنازعات، سماجی عدم استحکام اور جبری ہجرت کا بھی سبب بنتی ہے۔ انہوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنائیں، بھوک کے خاتمے کیلئے مختص وسائل میں اضافہ کریں اور امداد کو ضرورت مند افراد تک پہنچنے سے روکنے والی رکاوٹیں دور کریں۔ پاپ نے ہنگامی امدادی کارروائیوں اور طویل المدتی غذائی تحفظ کے پروگراموں میں عالمی غذائی پروگرام (WFP) کے کردار کو بھی سراہا۔