Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان: اسرائیلی حملے میں معروف ماہر ماحولیات مونا خلیل کا انتقال

Updated: June 22, 2026, 4:30 PM IST | Beirut

لبنان کی معروف ماہر ماحولیات اور سمندری کچھوؤں کے تحفظ کی عالمی علامت مونا خلیل اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد انتقال کر گئی ہیں۔ جنوبی لبنان کے شہر صور (طائر) کے قریب واقع اپنے گھر پر حملے میں شدید زخمی ہونے والی خلیل نے چند روز بعد دم توڑ دیا۔ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک انہوں نے خطرے سے دوچار سبز سمندری کچھوؤں اور لاگرہیڈ کچھوؤں کے تحفظ کے لیے کام کیا اور ’’اورنج ہاؤس پروجیکٹ‘‘ کے ذریعے لبنان کے ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔

Mona Khalil. Photo: X
مونا خلیل۔ تصویر: ایکس

لبنان کی ممتاز ماہر ماحولیات اور سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر معروف شخصیت مونا خلیل گزشتہ ہفتے اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی وفات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں شدت دیکھی جا رہی تھی اور اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئے جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے باوجود کشیدگی برقرار تھی۔ مونا خلیل جنوبی لبنان کے ساحلی علاقے منصوری اور صور (طائر) کے درمیان واقع ساحلوں پر خطرے سے دوچار سمندری کچھوؤں کے گھونسلوں کی حفاظت کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے کے باعث بین الاقوامی شہرت رکھتی تھیں۔ وہ خاص طور پر سبز سمندری کچھوؤں (Green Sea Turtles) اور لاگرہیڈ کچھوؤں (Loggerhead Sea Turtles) کے تحفظ کے لیے سرگرم تھیں، جنہیں عالمی سطح پر معدومی کے خطرے سے دوچار انواع میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران کے درمیان گفتگو مثبت رہی، اگلا دور جلد متوقع

خلیل کا یہ سفر ۱۹۹۹ء میں شروع ہوا جب انہیں جنوبی لبنان کے منصوری ساحل پر ایک سمندری کچھوا ملا۔ اسی واقعے نے انہیں سمندری حیات کے تحفظ کی جانب راغب کیا۔ ایک سال بعد انہوں نے ’’اورنج ہاؤس پروجیکٹ‘‘ کی بنیاد رکھی، جو لبنان میں ماحولیاتی سیاحت اور سمندری کچھوؤں کے تحفظ کا ایک منفرد مرکز بن گیا۔ یہ منصوبہ اس زمین پر قائم کیا گیا تھا جو انہیں وراثت میں ملی تھی۔ مونا خلیل لبنان کی خانہ جنگی کے دوران تقریباً ۱۷؍ برس نیدرلینڈس میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد وطن واپس آئی تھیں۔ انہوں نے اپنے گھر کو نارنجی رنگ دیا، جو ان کے بقول ہالینڈ میں حاصل ہونے والے تحفظ اور پناہ کی علامت تھا۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران خلیل نے ہزاروں کچھوؤں کے گھونسلوں کی نگرانی کی، مقامی کمیونٹی کو ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے تربیت دی اور ساحلی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات، پلاسٹک آلودگی اور ماہی گیری کے خطرات کے خلاف مسلسل آواز اٹھائی۔ ۲۰۰۰۶ء میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے دوران بھی انہوں نے ساحل چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ ۲۰۱۷ء میں سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’میں نے وہاں سے جانے سے انکار کر دیا تھا، کیونکہ وہ کچھوؤں کے انڈوں سے بچے نکلنے کا موسم تھا۔‘‘ اس جنگ کے دوران انہوں نے متعدد گھونسلوں کو محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ میں امن ہماری اولین ترجیح: جے ڈی وینس

ان کی قریبی دوست اور ماحولیاتی کارکن مہا جمعہ نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مونا خلیل نے حالیہ کشیدگی کے باوجود اپنا گھر چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کے مطابق، ’’یہ فیصلہ بالکل مونا کے مزاج کے مطابق تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے مشن کے ساتھ کھڑی رہتی تھیں۔‘‘ ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مونا خلیل کی مسلسل کوششوں کے باعث جنوبی لبنان کے کئی ساحلی حصوں کو تحفظ یافتہ درجہ ملا۔ ان کے کام نے نہ صرف سمندری کچھوؤں بلکہ پورے ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے حوالے سے عوامی شعور بیدار کیا۔
ماحولیاتی تنظیم Live Love Beirut نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مونا خلیل کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔ تنظیم کے مطابق، ’’منصوری میں ان کے گھر پر بمباری کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ان کا انتقال ہوا، لیکن انہوں نے اپنے پیچھے ایک ناقابل فراموش ورثہ چھوڑا ہے۔‘‘ لبنانی ماحولیاتی تنظیم Terre Liban کے صدر Paul Abi Rached نے بی بی سی سے گفتگو میں مونا خلیل کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کچھوؤں سے محبت ہر گفتگو اور ہر عمل میں نمایاں ہوتی تھی، لیکن وہ انسانوں سے بھی اتنی ہی محبت کرتی تھیں۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مونا خلیل کی سب سے بڑی میراث صرف وہ سمندری حیات نہیں جسے انہوں نے بچایا، بلکہ وہ نسل بھی ہے جسے انہوں نے قدرت، سمندری حیات اور ماحولیاتی تحفظ سے محبت کرنا سکھایا۔ ان کی وفات لبنان ہی نہیں بلکہ پورے مشرقی بحیرہ روم کے تحفظاتی شعبے کے لیے ایک بڑا نقصان تصور کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پولینڈ اور یوکرین کی ’’اعزازات‘‘ کی جنگ شدت اختیار کرگئی

ماحولیاتی تنظیموں نے مونا خلیل کی یاد میں خصوصی تعزیتی تقریبات اور ساحلی صفائی مہمات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ لبنان اور بین الاقوامی ماحولیاتی اداروں کی جانب سے ’’اورنج ہاؤس پروجیکٹ‘‘ کو جاری رکھنے کے لیے تعاون بڑھانے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی کے باعث ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سمندری کچھوؤں کے کئی محفوظ مساکن دوبارہ خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔مقامی کارکنان مونا خلیل کے نام سے ایک مستقل تحفظاتی فنڈ قائم کرنے کی مہم بھی چلا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK