Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان: ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ فلم ختم ہونے کے بعد بھی سنیما ہالز میں خاموشی

Updated: June 22, 2026, 9:56 PM IST | Mumbai

فلسطینی بچی ہند رجب کی المناک داستان پر مبنی عالمی شہرت یافتہ فلم ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کی ہندوستان میں نمائش کے بعد سوشل میڈیا پر ناظرین کے جذباتی ردعمل کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ مختلف شہروں سے سامنے آنے والے ویڈیوز، ریویوز اور پوسٹس میں متعدد افراد نے کہا کہ فلم کے اختتام کے بعد ہال میں کئی منٹ تک خاموشی طاری رہی اور بہت سے ناظرین اپنی نشستوں پر گم صم بیٹھے رہے۔

The Voice of India Rajab. Photo: INN
دی وائس آف ہند رجب۔ تصویر: آئی این این

بعض فلمیں تفریح فراہم کرتی ہیں، بعض سوچنے پر مجبور کرتی ہیں، اور کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو ختم ہونے کے بعد بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ فلسطینی بچی ہند رجب کی دردناک داستان پر مبنی فلم ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ تیسری قسم کی فلم ثابت ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ویڈیوز، تبصروں اور فلم دیکھنے والوں کے تاثرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس فلم نے ہندوستانی ناظرین کے ایک طبقے کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا ہے۔ متعدد وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فلم ختم ہونے کے باوجود کئی ناظرین فوراً اپنی نشستوں سے نہیں اٹھے۔ ہال میں مکمل خاموشی چھائی رہی۔ کہیں لوگ آنسو پونچھتے ہوئے دکھائی دیئے تو کہیں موبائل فون کی روشنی میں خاموشی سے باہر نکلتے نظر آئے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر سامنے آنے والے ردعمل ایک مشترک کیفیت کی نشاندہی کرتے ہیں: صدمہ، بے بسی اور خاموشی۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Nupur Azadi (@nupur_speaks)

اس فلم کی بنیاد غزہ کی پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی حقیقی داستان پر ہے، جو ۲۰۲۴ء میں دنیا بھر کی خبروں کا مرکز بنی تھی۔ فلم میں ہند رجب کی اصل ایمرجنسی کالز اور ان سے جڑے واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جسے اکثر ناظرین فلم کا سب سے طاقتور پہلو قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہندوستانی صارفین کے تبصروں میں ایک بات بار بار دہرائی جا رہی ہے کہ فلم دیکھتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ کسی اداکارہ کی آواز سن رہے ہیں یا ایک فلمی منظر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک حقیقی بچی مدد کے لیے پکار رہی ہو اور پوری دنیا اسے سنتے ہوئے بھی کچھ نہ کر پا رہی ہو۔

صارفین کا ردعمل
ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر ہندوستانی ناظرین کے تبصروں میں ایک مشترک احساس نمایاں نظر آیا، ’’یہ صرف ایک فلم نہیں بلکہ ایک تجربہ ہے۔‘‘

ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک صارف عامر اسپیکس نے لکھا کہ ’’فلم ختم ہو گئی لیکن کوئی بھی اپنی نشست چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے پورا ہال ایک ہی سوال سوچ رہا ہو کہ آخر ایک بچے کے ساتھ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

دہلی کی صارف ثناء رائٹس نے تبصرہ کیا کہ ’’میں نے جنگ پر بہت سی فلمیں دیکھی ہیں لیکن کسی بچے کی آواز کو اس طرح سننا انتہائی تکلیف دہ تھا۔‘‘

کولکاتا کے ایک فلمی شائق راہل سنیما نے لکھا کہ ’’فلم ختم ہونے کے بعد چند لمحوں تک تالیاں بھی نہیں بجیں۔ لوگ صرف خاموش بیٹھے رہے۔ شاید یہی اس فلم کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘‘

ڈاکٹر فوڈی نے لکھا کہ ’’ہم سب اپنی نشستوں پر ساکت اور گم صم بیٹھے ہوئے تھے۔‘‘

چائے کٹنگز کا کہنا تھا کہ ’’ممبئی میں بھی یہی منظر تھا۔‘‘

شوبھا وشواس آفیشیل نے تبصرہ کیا کہ ’’بالکل درست، میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔‘‘

نبراس ہیرس نے لکھا کہ ’’آج کوچی میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔‘‘

فلورین سیک نامی صارف نے لکھا کہ ’’میرے خیال میں اس فلم کو ۱۰؍ میں سے ۱۰؍ ملنے چاہئیں۔‘‘

جگنو ریڈینٹ کاتبصرہ کچھ یوں تھا، ’’لوگ اسے پروپیگنڈا کیوں کہہ رہے ہیں؟ یہ کسی مذہب کے خلاف نفرت نہیں بلکہ صرف متاثرہ بچی کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘

بی دی چینج یو وش ٹو سی نامی صارف نے لکھا کہ ’’فلسطینی بچوں کو آزادی ملنی چاہیے۔‘‘

منیش بھٹ نے لکھا کہ ’’مجھ میں شاید یہ فلم دیکھنے کی ہمت نہیں۔‘‘

احمد عظمیٰ کا تبصرہ تھا کہ ’’میرے پاس یہ فلم دیکھنے کا حوصلہ نہیں۔‘‘

امان ایس نامی صارف نے لکھا کہ ’’بس اتنی ہمت جمع کرنا چاہتا ہوں کہ یہ فلم دیکھ سکوں۔‘‘

اورندھوتی نامی صارف نے لکھا کہ ’’کولکاتا فلم فیسٹیول میں فلم کی نمائش کے دوران میں اپنی نشست سے اٹھنا تو دور، ٹھیک سے سانس بھی نہیں لے پا رہی تھی۔‘‘

اوفیلیا امانے نامی صارف نے کہا کہ ’’ایک دستاویزی اور حقیقی المیے کو پروپیگنڈا قرار دینا حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔‘‘

گریما ٹو یو نامی صارف کا تبصرہ یوں تھا، ’’میں بس خاموش بیٹھی رہی۔ کوئی شور نہیں تھا، لوگ صرف اٹھنے کی ہمت جمع کر رہے تھے۔ بچوں کی صحت اور سلامتی کسی جغرافیائی علاقے کا استحقاق نہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیٹ رِی ایگزام : جب ایک برقع پوش طالبہ اپنے حق اوروقار کیلئے ڈٹ گئی

اٹس پارس نامی صارف نے کہا کہ ’’ شروع ہونے کے دس منٹ بعد ہی میں مسلسل روتی رہی، یہاں تک کہ کچھ مرد بھی رو پڑے۔‘‘

جوئل ہنری نے لکھا کہ ’’میں ہند کی آخری کال سن چکا ہوں، میں کئی دن تک روتا رہا۔‘‘

فلم کی نمائش کے بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے تبصروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناظرین کی بڑی تعداد نے فلم کو انتہائی جذباتی اور تکلیف دہ تجربہ قرار دیا۔ ناظرین نے فلم کو ’’دل دہلا دینے والی‘‘، ’’ناقابلِ فراموش‘‘ اور ’’ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ فلم ایک ایسا تجربہ بن کر ابھری ہے جس نے ہندوستانی ناظرین کو بھی جنگ، انسانیت اور بچوں کی سلامتی کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

فلمی ناقدین کا ردعمل
فلمی ناقدین کا بھی کہنا ہے کہ ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ جنگی مناظر، دھماکوں اور بڑی سیاسی تقریروں کے بجائے ایک بچی کی آواز کو مرکز بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اثر براہِ راست جذبات پر پڑتا ہے۔ کئی مبصرین نے لکھا کہ فلم دیکھنے کے بعد ان کے لیے فوری طور پر کسی اور موضوع پر بات کرنا یا معمول کی زندگی میں لوٹنا آسان نہیں تھا۔ 

ہندوستان میں فلم کی نمائش خود ایک بحث کا موضوع بن گئی تھی۔ اس سے قبل فلم کو سرٹیفکیشن اور ریلیز کے مراحل میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد آزادیٔ اظہار، سینسرشپ اور فنونِ لطیفہ کے کردار پر نئی بحث شروع ہوئی۔ ناقدین اور بعض سیاسی شخصیات نے اس معاملے پر کھل کر اپنی رائے بھی ظاہر کی۔

بین الاقوامی نمائش
دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کی بین الاقوامی نمائش کے دوران بھی اسی قسم کے جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے تھے۔ وینس فلم فیسٹیول میں فلم کو غیر معمولی پذیرائی ملی اور اسے تقریباً ۲۴؍ منٹ تک مسلسل اسٹینڈنگ اوویشن حاصل ہوئی، جسے فیسٹیول کی تاریخ کے طویل ترین استقبال میں شمار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اس بار ورلڈ کپ میں برازیل اچھا کرگیا تو شاید میرا بیمار بیٹا بستر سے اٹھ بیٹھے‘‘

فلم تیونس کی معروف ہدایت کار کوثر بن ہانیہ کی تخلیق ہے اور یہ ۲۰۲۴ء میں غزہ میں ہلاک ہونے والی فلسطینی بچی ہند رجب کے آخری لمحات پر مبنی ہے۔ فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہند رجب کی حقیقی ایمرجنسی کالز کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ناظرین پر اس کے اثرات مزید گہرے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ 

’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کی اصل کامیابی یہی ہے کہ فلم ختم ہو جاتی ہے، پردہ گر جاتا ہے، روشنی واپس آ جاتی ہے، مگر ایک ننھی بچی کی آواز ناظرین کے ذہنوں میں گونجتی رہتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK