Inquilab Logo Happiest Places to Work

جانئے ان ۳؍ طلباء کے بارے میں جنہوں نے سی بی ایس ای کی پول کھول دی

Updated: June 04, 2026, 12:02 AM IST | New Delhi

ویدانت شریواستو نے پرچوں کی کاپی کا سوال اٹھایا، سارتھک سدھانت نے او ایس ایم کی پول کھولی جبکہ ایتھیکلہیکر نسرگ ادھیکاری نے تکنیکی خامیاں بتائیں

Sarthak Siddhanta (in the middle) with Vedanta Shrivastava and Nisarga Adhikari
سارتھک سدھانت (درمیان میں) ویدانت شریواستو اور نسرگ ادھیکاری کے ساتھ

 سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے ۱۲؍ ویںکے امتحانات کے لئے متعارف کرائے گئے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام پر تین نوجوان طلبہ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات نے ملک بھر میں  نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دہلی کے ویدانت شریواستو، رانچی( جھارکھنڈ) کے ۱۷؍ سالہ سارتھک سدھانت اور ۱۹؍ سال  کے’ایتھیکل ہیکر‘ نسرگ ادھیکاری نے اس سسٹم  میںخامیوں اور تکنیکی مسائل کی اتنی  واضح  نشاندہی کی کہ اس کے بعد مودی حکومت کے پاس سی بی ایس ای کے چیئر مین اور سیکریٹری کو ہٹانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا ۔ 
 ان میں سارتھک سدھانت کا رول زیادہ اہم اور بڑا رہا کیوں کہ اس نے نہ صرف سی بی ایس ای کے ناقص نظام کی پول کھولنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ او ایس ایم کیلئے دئیے گئے ٹھیکوں اور ٹینڈر کے عمل سے متعلق بھی سوال اٹھائے جن کے جواب  نہ سی بی ایس ای کے پاس ہیں اور نہ حکومت کے پاس۔ سارتھک نے  اپنے دلائل اور تفتیش کو گزشتہ روز پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بھی پیش کیا ۔ وہ پورے اعتماد کے ساتھ اس کمیٹی میں پیش ہوئے اور انہوں نے وہ تمام چیزیں پیش کیں جن کی وجہ سے اتنی بڑی بے ضابطگی سامنے آئی ۔ سینئرکانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ کی قیادت والی یہ پارلیمانی کمیٹی تعلیم، خواتین، اطفال، نوجوان اور اسپورٹس  کے امور دیکھتی ہے۔ یہاںپیش ہونے کے بعد سارتھک اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے بھی ملے اور  انہیںبھی ان بے ضابطگیوں سے متعلق معلومات فراہم کی۔ راہل گاندھی  نے اس میٹنگ کے بعد سارتھک کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ وہ اس لڑائی میں سارتھک سمیت ہر طالب علم کے ساتھ ہیں۔ 
    یاد رہے کہ دہلی کے  ویدانت شریواستو نے سب سے پہلے سوشل میڈیا خصوصاً ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ انہیں اپنی درخواست کے جواب میں کسی دیگر طالب علم کی جوابی کاپی موصول ہوئی ہے۔ اس پر دیگر طلبہ نے بھی یہی شکایت دہرائی اور پھر  دیکھتے ہی دیکھتے چند گھنٹوں میں یہ شکایتیں کئی گنا بڑھ گئیں جس سے ادارہ کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ بالآخر سی بی ایس ای کویہ تسلیم کرنا پڑا کہ کہیں نہ کہیں کچھ گڑ بڑ ہوئی ہے۔ بعد میں سی بی ایس ای نے اسے اسکیننگ کی غلطی مانا  اور اسے  درست کیا۔

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK