تاجراور خریدار دونوں حیرت ز دہ، ۴؍درجن آموں کی پہلی پیٹی۲۱؍ ہزار روپے میں فروخت ہوئی، عام طورپریہ آم فروری سے مارچ تک بازار میں آتا ہے۔
EPAPER
Updated: November 01, 2026, 10:49 AM IST | Siraj Shaikh | Ratnagiri
تاجراور خریدار دونوں حیرت ز دہ، ۴؍درجن آموں کی پہلی پیٹی۲۱؍ ہزار روپے میں فروخت ہوئی، عام طورپریہ آم فروری سے مارچ تک بازار میں آتا ہے۔
آم کے شوقین افراد کے لیے حیران کن اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ اپنے منفرد ذائقے اور خوشبو کیلئے دنیا بھر میں مشہور کوکن کا راجہ ہاپوس (الفانسو) آ م اپنے روایتی سیزن سے تقریباً۴؍ ماہ قبل ہی مارکیٹ میں پہنچ گیا ہے۔ واشی ہول سیل مارکیٹ اور رتناگری کی مقامی مارکیٹوں میں ہاپوس عام کی ابتدائی پیٹیاں داخل ہو چکی ہیں جس نے تاجروں اور خریداروں دونوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
پہلی پیٹی۲۱؍ ہزارمیں فروخت
عام طور پر فروری یا مارچ میں مارکیٹ کی زینت بننے والا ہاپوس اس بار اکتوبر کے آخر میں ہی بازار میں دستیاب ہے۔ رتناگیری کے گاؤکھڑی علاقے کے ایک باغبان دتارام پڑیو ار کے باغ کی۴؍درجن آموں کی پہلی پیٹی واشی مارکیٹ میں پہنچائی گئی جسے ایک معروف تاجر نے۲۱؍ ہزار روپے کی ریکارڈ قیمت پر خریدا ہے۔ اسی طرح سندھودرگ کے دیوگڑھ سے بھی باغبان نلیش بانڈکر نے ہاپوس کی پہلی پیٹی ممبئی کی واشی مارکیٹ روانہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دیوالی کے دوران واشی مارکیٹ میں مزید۶؍ سے۷؍ باکس بھیجنے کا ارادہ رکھتےہیں۔ اس لیے رتناگیری کے بعد سندھو درگ کے ہاپو س آ م بھی سیزن سے پہلے ہی بازار میں داخل ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تاریخی عوامی مواخذہ میں گیانیش کمار کی ’برطرفی‘ کی قرارداد منظور
درختوں پر قبل از وقت پھول آگئے
باغبانوں اور زرعی ماہرین کے مطابق، اس بار کوکن کے ساحلی علاقوں میں موسم کی غیر معمولی تبدیلی اور موزوں سرد درجہ حرارت نے آم کے درختوں پر وقت سے بہت پہلے بور (پھول) آنے میں مدد کی۔ کسانوں نے جدید زرعی تکنیک اور خاص دیکھ بھال کے ذریعے ان پھولوں کو شدید بارش سے بچایاجس کے نتیجے میں یہ پھل اکتوبر میں ہی پک کر تیار ہو گئے۔ اس ضمن میں رتنا گیری کے مشہور باغبان دتا رام نے بتایا کہ جولائی اور اگست کے دوران آم کے کچھ درختوں پر جلد بور آنا شروع ہو گئےتھے۔ ہم نے فنگسائڈز اور حفاظتی کور کا استعمال کر کے ان پھولوں کو بارش سے بچایا، جس سے پھل وقت سے پہلے تیار ہو گئے۔
مارکیٹ انتظامیہ اور تاجروں کا موقف
واشی اور پونے مارکیٹ کمیٹی کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ ہاپوس کی باقاعدہ سیزنل سپلائی نہیں ہے بلکہ یہ خطہ کوکن کےچند مخصوص باغات کا ابتدائی پھل ہے۔ مارکیٹ میں ہاپوس کی بڑے پیمانے پر آمد اگلے سال فروری کے آخر یا مارچ سے ہی شروع ہوگی۔ فی الحال سپلائی انتہائی محدود ہونے کی وجہ سے قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے دور ہے لیکن دیوالی کے موقع پرہاپوس کی آمد نے خریداروں کوحیرت زدہ تو کرہی دیا ہے۔