کانگریس صدر ملکا رجن کھرگے کی رہائش گاہ پر قائم علامتی پارلیمنٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی کیلئے مواخذہ کی تحریک کو اتفاق رائے سے منظور کرلیاگیا۔
EPAPER
Updated: November 01, 2026, 9:48 AM IST | Inquilab Desk | New Delhi
کانگریس صدر ملکا رجن کھرگے کی رہائش گاہ پر قائم علامتی پارلیمنٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی کیلئے مواخذہ کی تحریک کو اتفاق رائے سے منظور کرلیاگیا۔
کانگریس صدر ملکا رجن کھرگے کی رہائش گاہ پر قائم علامتی پارلیمنٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی کیلئے مواخذہ کی تحریک کو اتفاق رائے سے منظور کرلیاگیا۔ اس میں ۲۱؍سیاسی جماعتوں کے علاوہ سول سوسائٹی کی تنظیموں، اہم شخصیات اور ایس آئی آر کے متاثرین کو بھی اپنی بات پیش کرنے کا موقع دیاگیا۔ کانگریس صدر کھرگے کی رہائش گاہ پرمنعقد کی گئی اس ماک پارلیمنٹ کا پورا سیٹ اپ پارلیمنٹ جیسا ہی رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اسپیکر کی بنچ، لیڈروں کے بیٹھنے کی جگہ یہاں تک کہ پوری کارروائی بھی پارلیمنٹ کے انداز میں ہی چلائی گئی۔
میرا کمار کی صدارت، کھرگے نے شروعات کی
لوک سبھا کی سابق اسپیکر اور سینئر کانگریس لیڈر میرا کمار کی صدارت میں کی گئی کارروائی، جو سواتین گھنٹہ تک جاری رہی، میں کانگریس صدر کھرگے نے شروعات کرتے ہوئے گیانیش کمار کے خلاف مواخذہ کی قرار داد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار نےووٹ چوری کرکے غداری کی۔ انہیں اس جرم کیلئے معاف نہیں کیا جاسکتا، انہیں استعفیٰ دینا ہی ہوگا۔ ملکا رجن کھرگے نے اپنی تقریر میں گیانیش کمار کیخلاف غداری کے ۶؍سنگین الزامات عائد کئے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ممبران پارلیمنٹ جو کہ ملک کی ۶۰؍فیصد سے زیادہ آبادی اور شہریوں کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ آئین ہند کے آرٹیکل۳۲۶؍میں درج عالمی بالغ رائے دہی کیلئے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں اور اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر سے اس حق پر سنگین خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اسی لئے گیانیش کمار کیخلاف۶؍سنگین الزامات کا مواخذہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
راہل گاندھی کا خطاب
راہل گاندھی نے حالانکہ کارروائی کے بالکل آخر میں اختتامی تقریر کی لیکن ان کی تقریر تمام اپوزیشن لیڈران اور ملک کے کروڑوں لوگوں کے دل کی آواز تھی۔ راہل نے اپنی تقریرمیں کہا کہ ہمارے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر مزید نہ رہیں۔ اگر ہماری جانب سے حقائق سامنے لانے کے باوجود بی جے پی انہیں عہدہ پر برقرار رکھنے پر بضد ہے تو پھر بی جے پی کی اصل نیت سب پر عیاں ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ۱۳؍کروڑ ۳۰؍لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کر دیے گئے۔ ہر ۷؍ ہندوستانیوں میں سے ایک ووٹر کا نام حذف کردیاگیا اور یہ ہندوستان کے کل ووٹروں کا ۱۵؍فیصد ہے۔ انہوں نے ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا الیکشن کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لوک سبھامیں ان رائے دہندگان نے ووٹ دیاتھا جس میں جیت کا مارجن محض تین فیصد تھا۔ اب الیکشن کمیشن خود کہہ رہا ہے کہ ان۱۵؍ فیصد ووٹروں کو کبھی ووٹ نہیں ڈالنا چاہئے تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ۲۰۲۴ء کے لوک سبھاانتخابات غیرقانونی تھے اور لوک سبھا کیلئے منتخب ہونے والوں کے پاس کوئی جائز مینڈیٹ نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے اس موقع پر گیانیش کمار اور ان جیسے دیگر لوگوں کو بھی نشانے پر لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جمع ہونے والے لوگوں کا اس دنیا کے تمام گیانیش کماروں کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ آپ اس ادارے کی آڑ میں چھپ رہے ہیں، جس کے تحفظ کا آپ نے حلف اٹھایا ہے۔ انہوں نے تنبیہ والے انداز میں یہ بھی کہا کہ ’’یاد رکھیے، آپ ہمیشہ اس ادارے کے پیچھے نہیں چھپ سکتے۔ ایک دن آپ کو اس ملک کےعوام کا اور ان کے نمائندوں کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ تب آپ چھپ نہیں سکیں گے۔
مہوا موئترا نے کیا کہا ؟
ترنمول کانگریس کی لیڈر اور رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے اپنے خطاب میں کہا کہ مغربی بنگال میں حذف شدہ ووٹروں میں سے۷۱؍فیصدمسلمان ہیں جبکہ۵۱؍فیصدخواتین ہیں۔ ان سبھی کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ یہ ہماری جمہوریت پر کاری ضرب لگائی جارہی ہے، اس کا جواب پوری طاقت سے دینا ضروری ہے۔
سگاریکا گھوش کا خطاب
ایک اور ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سگاریکا گھوش نے بھی اپنی بات رکھی۔ انہوں نے گیانیش کمار پر شدید تنقیدیں کیں اور کہا کہ انہوں نے جن کے اشارہ پر یہ سب کیا ہےوہ وقت آنے پر انہیں تنہا چھوڑ دیں گے۔ یہ بات گیانیش کمار کو یاد رہنی چاہئے۔ ہریندر ملک : سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ہریندر ملک نے اپنے مختصر لیکن پر اثر خطاب میں جہاں ایس آئی آر کی خامیوں کو پیش کیا وہیں انہوں نے سیاسی تدبر کا ثبوت دیتے ہوئے یوپی الیکشن سے متعلق گفتگو بھی کرلی۔ ہریندر ملک نے کہا کہ ایس آئی آر کی ضرب براہ راست پی ڈی اے ووٹرس پر پڑتی ہے۔ پسماندہ طبقات، دلت اور اقلیتوں کو نہ صرف یوپی میں بلکہ پورے ملک میں ووٹ چوری کے ساتھ ساتھ ایس آئی آر کے ذریعے بھی ہراساں کیا گیا ہے۔
نیہا بورا : آئیسا کی صدر اورشعلہ بیان طلبہ لیڈر نیہا بوراکو اس مواخذہ کی کارروائی میں بولنے کا موقع دیا گیا۔ انہوں نے یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت عوام کے دل کی بات سنتی تو یہ علامتی مواخذہ نہیں ہوتا بلکہ پارلیمنٹ میں اصل کارروائی ہورہی ہوتی لیکن سرکار کسی کی بھی بات نہیں سننا چاہتی۔ نیہا بورا نے اپنے جارحانہ انداز میں بالکل واضح طور پر کہا کہ گیانیش کمار کا صرف مواخذہ نہیں ہو گا بلکہ انہیں جیل بھی بھیجا جائے گا کیوں کہ انہوں نے ملک کے آئین کے ساتھ بہت بڑی غداری کی ہے۔
یوگیندر یادو :مشہور سماجی کارکن یوگیندر یادو نے اپنا نمبر آنے پر نہایت دو ٹوک انداز میں کہا کہ ووٹر لسٹ سے ۱۵؍ کروڑ سے زائد ووٹرس کے نام غائب ہیں۔ کیا اس سے گیانیش کمار کی نیند نہیں اڑتی ؟ اڑے گی بھی کیسے یہ نام ان کے کہنے پر ہی ہٹائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مواخذہ کی یہ کارروائی پارلیمنٹ میں ہونی چاہئے تھی لیکن اپوز یشن نے اپنی ذمہ داری سمجھ کراسے عوامی طور پر منعقد کیا اور یہ واضح کردیا کہ ملک کے عوام کی اکثریت گیانیش کمار کےخلاف ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ’عوامی مواخذہ‘ کی کارروائی ’جن گن من‘ کے ساتھ شروع ہوئی۔ کھرگے نے تحریک مواخذہ پیش کی جس کے بعد بحث کا عمل شروع ہوا۔ گیانیش کمار کے خلاف تحریک مواخذہ میں سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی جیسی سرکردہ سیاسی ہستیاں بھی موجود ہیں، جس سے ’علامتی پارلیمانی کارروائی‘ ایک حقیقی پارلیمانی بحث جیسا ماحول پیش کر رہی تھی۔ اس علامتی پارلیمانی کارروائی میں اپوزیشن کی تقریبا۲۱؍ پارٹیاں شامل ہوئی ہیں، اور ان پارٹیوں کے تقریباً ۳۰؍ مقررین بحث کا حصہ بنے۔ قابل ذکر ہے کہ چیف اپوزیشن پارٹیاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف استعفیٰ کا مستقل مطالبہ کر رہی ہیں۔ عوامی مواخذہ کی یہ کارروائی پہلے ۳۰؍ اکتوبر کو ہونی تھی لیکن دہلی میں ہونے والی بارش کے سبب اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب یہ پروگرام یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں ہونے والی انڈیا بلاک کی ریلی سے عین ایک روز قبل ایک طرح سے ’کرٹن ریزر‘ کے طور پرکیا گیا۔ اس علامتی پارلیمنٹ سے رکن پارلیمنٹ جان بریٹاس، یوتھ کانگریس لیڈر ریتو برالا، سپریم کورٹ کی وکیل شاہ رخ عالم، انیتا جیسوال (حذف شدہ ووٹر )، سنجے رائوت کے نمائندہ کے طور پر اروند ساونت، کسانوں کے نمائندے نکھل دیو اور جن لوگوں کے نام ووٹرلسٹ سےحذف کرد ئیےگئے انہوں نے بھی خطاب کیا۔
علامتی پارلیمنٹ میں کس نے کیا کہا؟
عام آدمی کو تو جانے دیجئے اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ تک کو اہل ووٹر ہونے کا ثبوت دینا پڑرہا ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت الیکشن کمیشن نے کس سطح پر عوام کو ہراساں کرنے اور کروڑوں نام حذف کرنے کا منصوبہ بنارکھا ہے۔ جنہوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا انہیں ’’مارشل لاء ‘‘ جیسے حالات بناکر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔ ہم نے ہمیشہ اس کیخلاف آواز اٹھائی ہے اور اب بھی اٹھارہے ہیں۔ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ گیانیش کمار فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ جان بریٹاس، سی پی ایم
جمہوریت میں ایک شہری، ایک ووٹ کا حق ہمیں جدوجہد کے ذریعے حاصل ہوا تھا۔ اسی حق کی حفاظت کیلئے اپوزیشن سڑکوں سے لے کر پارلیمنٹ تک مسلسل لڑائی لڑ رہی ہے۔ جمہوری نظام میں غریبوں، محروم طبقات اور کسانوں کو بھی ووٹ کے ذریعے اپنی حکومت منتخب کرنے اور مساوی شہری حیثیت حاصل کرنے کا حق دیا گیا تھا، لیکن آج انہی طبقات کے جمہوری حقوق کمزور کرنے کی کوشش ہورہی ہے لیکن ہم یہ ہونے نہیں دیں گے۔ ریتو برالا، این ایس یو آئی لیڈر
گیانیش کمار ایک سیاسی مجرم ہیں۔ انہو ں نے چند لوگوں کے مفاد کی خاطر ملک کے آئین سے غداری کی ہے۔ اس لئے سب سے پہلے ان کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے اور پھر ان کا باقاعدہ مواخذہ پارلیمنٹ میں ہونا چاہئے۔ گیانیش کمار نے جس طرح سے ووٹر لسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، ایس آئی آر کو درست ٹھہرانے کے لئےپوری مشنری استعمال کی اور باقاعدہ سنڈیکیٹ کے انداز میں کارروائیاں کیں اس سے ظاہر کی ہے کہ یہ منصوبہ بند سازش تھی۔ ای ٹی محمد بشیر، انڈین یونین مسلم لیگ
گیانیش کمار نے نہ صرف ملک کی عالمی شبیہ خراب کی ہے بلکہ انہوں نے جو سازش کی اس کی وجہ سے پورے الیکشن کمیشن کی ساکھ دائو پر لگ گئی ہے۔ اب پوری دنیا میں ہندوستان کے انتخابات کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے۔ گیانیش کمار نے اپنی ایک بدعملی کے ذریعے ملک کی جمہوریت پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اتنی بڑی سازش کرنے کے باوجود انہیں رات میں نیند کیسے آتی ہے ؟انہوں نے ملک کے خلاف سازش کی ہے جس کی سزا انہیں ملنی چاہئے۔ یوگیندر یادو، سماج کارکن
یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور صحافی ندھی رازدان رشتۂ ازدواج میں منسلک
میں اپوزیشن اتحاد انڈیا کی اس قرار داد کی مکمل حمایت کرتی ہوں کیوں کہ اب گیانیش کمار کا صرف مواخذہ نہیں ہوگا انہیں جیل بھی بھیجا جائے گا۔ انہوں نے ملک کے کروڑوں ووٹرس کے خلاف جو سازش کی اسے دیکھتے ہوئے جیل ہی ان کا مناسب ٹھکانہ ہے۔ گیانیش کمار نے نہ صرف آئین کے حلف کی خلاف ورزی کی بلکہ انہوں نے سپریم کورٹ کی طے کردہ گائیڈ لائنز کی بھی توہین کی ہے۔ اس لئے وہ عوام کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے بھی مجرم ہیں۔ انہیں سزا ضرور ملے گی۔ نیہا بورا، صدر آئیسا
ایسی رہی سابق اسپیکر کی اسپیکرشپ
’’ماک پارلیمنٹ اجلاس ‘‘ میں سابق اسپیکر میرا کمار ویسی ہی نظر آئیں جیسی حقیقی پارلیمانی اجلاس کے دوران ۲۰۰۹ء تا ۲۰۱۴ء تھیں۔ یہ ’’اجلاس‘‘اُن کی مختصر تقریر سے شروع ہوا جس میں انہوں نے ووٹ چوری کا ہلکا سا خاکہ کھینچتے ہوئے کہا کہ جب انڈیا بلاک کی طرف سے آواز اُٹھائی گئی تو جواب نہیں ملا کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ اس لئے طے کیا گیا کہ یہ اجلاس منعقد کیا جائے اور تحریک مواخذہ پیش کی جائے گیانیش کمار کو اُن کے عہدہ سے ہٹانے کیلئے۔
ووٹ جمہوریت کی روح ہے
میرا کمار نے کئی ملکوں کا نام لے کر بتایا کہ کس طرح ہمارے طرز جمہوریت کو لوگ بطور مثال سامنے رکھتے ہیں۔ ’’ہماری جمہوریت مساوات کے اُصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر شہری کو ایک ووٹ کا حق ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت، یا وہ کسی بھی مذہب اور ذات کا ہو۔ ہماری یہ جمہوریت الیکشن کی طاقت سے چلتی ہے۔ الیکشن کی طاقت کے پیچھے ووٹر کی روح ہے۔ ‘‘تالیوں کی گونج میں انہوں نے کہا کہ کسی ایک شہری کو بھی ووٹ دینے سے منع کیا گیا تو ہماری جمہوریت کی روح زخمی ہوتی ہے۔
ہے اُفق پر ایک سنگ آفتاب آنے کی دیر
اجلاس کے اختتام سے پہلے اپنے اظہار خیال میں میرا کمار نے سرور بارہ بنکوی کا شعر پڑھا جو اوپر شہ سرخی سے پہلے درج کیا گیا ہے۔
’’پرستاؤ پارِت ہوا‘‘
تقاریر کے اختتام پر میرا کمار نے حاضرین سے کہا کہ ہاتھ اُٹھا کر تحریک مواخذہ کی حمایت کریں، تب اجلاس کے حاضرین نے پُرجوش طریقہ سے ہاتھ اُٹھائے اور بھرپور تائید کی۔ تب میرا کمار نے اعلان کیا کہ: ’’پرستاؤ پارِت ہوا۔ ‘‘
گیانیش کمار کیخلاف ۶؍ الزام
۱۔ ووٹ چوری کی سازش رچی
۲۔ ۱۳ء۲؍ کروڑ ووٹرس کے نام حذف کئے
۳۔ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر فارم -۶؍ میں تبدیلی
۴۔ ای سی آئی نیٹ کے ذریعہ انتخابی فہرستوں پر قبضہ
۵۔ دیگر دونوں کمشنروں کی زبان بند کردی
۶۔ مودی اور شاہ کے اشاروں پر کام کرتے رہے