کرلا تا مانخورد ریلوے پٹری کے قریب آباد۳۷۵۰؍ جھوپڑے والوں نے باندرہ میں صدائے احتجاج بلند کی۔ کلکٹر کو میمورنڈم دیا۔
EPAPER
Updated: November 05, 2026, 11:32 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
کرلا تا مانخورد ریلوے پٹری کے قریب آباد۳۷۵۰؍ جھوپڑے والوں نے باندرہ میں صدائے احتجاج بلند کی۔ کلکٹر کو میمورنڈم دیا۔
کرلا تا مانخورد ریلوے پٹری کے قریب آباد ۳ ؍ ہزار ۷۵۰؍ جھوپڑے والوں نے بدھ کو باندرہ میں کلکٹر دفتر کے باہر زبردست احتجاج کیا۔ ۴؍اہم مطالبات دہرائے اور ہٹانے سے قبل بسانے اور ہائی کورٹ کی ہدایت پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس کے علاوہ ایک وفد نے ضلع کلکٹر کو میمورنڈم دیا ۔ مظاہرین میں خواتین سبھی شامل تھیں۔ مظاہرین کےہاتھوں میں بڑا بینر تھا جس پر چاروں مطالبات تحریر تھے۔ یہ احتجاج ’مہاراشٹر گھر حق سنگھرش سمیتی‘ کی جانب سے کیا گیاتھا۔
اس سےقبل مکینوں کے نمائندہ وفد کی جانب سے سینٹرل ریلوے کے ڈی آر ایم ہریش مینا ، ایس آر اے سی ای او مہندر کلیانکراوربی ایم سی کمشنر اشونی بھڈے کو بھی میمورنڈم دیئے جاچکے ہیں ۔ اس کے علاوہ اے پی سی آر کی جانب سے بھی مکینوں کی قانونی مدد کیلئے ایڈوکیٹ گائتری سنگھ سے ملاقات کروائی گئی اوران کی جانب سے پٹیشن بھی تیار کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۸۰؍ فیصد نوجوان ہفتہ وار چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں: اوپن اے ائی عہدیدار
’مہاراشٹرگھر حق سنگھرش سمیتی‘ کے ذمہ دار خواجہ میاں پٹیل نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ہماری سب سے بڑی طاقت ’ایکتا ‘ ہے اورہم اپنا حق لے کر رہیں گے۔ مکین ریلوے پٹری کے قریب آج سے نہیں بلکہ ۴۰، ۴۵؍ برس سے رہ رہے ہیںاوراب ہمیں ہٹانے کانوٹس جاری کیاگیا ہے جبکہ ہائی کورٹ کی واضح ہدایت ہے کہ پہلے مکینوں کوبسایا جائے، اس کےبعد ان کو ہٹایا جائے مگر کوئی سننے کیلئے تیار نہیں ہے۔‘‘ انہو ں نے ریلوے انتظامیہ سے سوال کیا کہ اب کیوں ہٹانے کی ضرورت پڑرہی ہے، برسوں قبل لوگوں کو آباد کیوں ہونے دیاگیا؟ آج جب ضرورت پڑی ہے تو عوامی نمائندے بھی خاموش ہیں۔‘‘
’’اتنی بڑی تعداد میں مکین کہاں جائیں گے‘‘
مظاہرین میں شامل اور قانونی معاملات دیکھنے والے شبھم نے کہاکہ ’’ہم سب تو اس ارادے کے ساتھ کلکٹر کےپاس آئے ہیںکہ جب تک ہم کواپنا حق نہیں مل جاتا، مکینوں کی بازآبادکاری کا فیصلہ نہیں کرلیاجاتا ، اس وقت تک ہم سب یہاں سےجانے والے نہیں ہیں۔ ‘‘ انہوں نےیہ بھی کہاکہ’’ اتنی بڑی تعداد میںمکینوں کو اسی لئے کلکٹر دفتر کے سامنےاحتجاج کرناپڑا کیونکہ اب تک انصاف نہیں ملا ہے۔ آخر اتنی بڑی تعداد میں مکین کہاںجائیںگے اور ان کے بچوں کا کیا ہوگا؟‘‘