دہلی حکومت کے ایڈیشنل کونسل نے رتنا سنگھ کے خلاف کیس کی منظوری دیدی، سوروداس کے خلاف مہاراشٹر کے ایڈوکیٹ جنرل سے منظوری مانگی گئی۔
EPAPER
Updated: November 05, 2026, 12:15 PM IST | Agency | Mumbai/New Delhi
دہلی حکومت کے ایڈیشنل کونسل نے رتنا سنگھ کے خلاف کیس کی منظوری دیدی، سوروداس کے خلاف مہاراشٹر کے ایڈوکیٹ جنرل سے منظوری مانگی گئی۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے لیڈروں کو یکے بعد دیگرے مقدمات میں پھنسانے کی کارروائی تیز ہوتی نظر آرہی ہے۔ دہلی حکومت کےایڈیشنل اسٹینڈنگ کونسل امول سنہا نے سی جے پی کی شعبہ قانون کی سربراہ رتنا سنگھ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی منظوری دیدی ہے جبکہ سورو داس کے خلاف اسی طرح کی کارروائی شروع کرنےکیلئے مہاراشٹر کے ایڈوکیٹ جنرل کی منظوری طلب کی گئی ہے۔
رتنا سنگھ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ساکیت کورٹ کے ایک جج کے تعلق سے کہاتھا کہ وہ اپنے’’آقا‘‘ کے اشارے پر کام کررہے ہیں اور اس کے احکامات کی پیروی کررہے ہیں۔ رتنا سنگھ نے یہ پوسٹ ایکس پر اس وقت کی تھی جب وہ اپنی اس درخواست کی سماعت میں شریک ہوئی تھیں جس میں انہوں نے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر کے دوران حذف شدہ رائے دہندگان کے فارم ۶؍ بھرنے پرکوئی کارروائی نہیں
ان کا الزام تھا کہ پولیس نے انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر سی جے پی احتجاج میں شرکت سے روکا۔ وکیل کوشک چٹرجی نے ان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمہ کی اجازت مانگی تھی جس پر امول سنہا نے کہا کہ بادی النظر میں رتنا سنگھ کے بیانات توہین عدالت قانون کے تحت آتے ہیں۔
اِدھر ممبئی میں بی جے پی کے ایک کارکن اور وکیل وویکانند گپتا نے سی جے پی کے شریک کنوینر سورَو داس کے خلاف ایسی ہی کارروائی کیلئےمہاراشٹر کے ایڈوکیٹ جنرل سے تحریری اجازت طلب کی ہے۔ یہ درخواست سوشل میڈیا پر ججوں کے خلاف مبینہ توہین آمیز تبصروں کے سلسلے میں دی گئی ہے۔ گپتا کا الزام ہے کہ سورَو داس نے۳؍نومبر کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ بعض جج قانون کی حکمرانی پر عمل کرنے کے بجائے اپنے ذاتی تعصبات اور مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ انہوں نے عدلیہ پرحکومت کی من مانی کو روکنے میں ناکام رہنے کا الزام بھی لگایا اور اسے ملک کیلئے بڑا بدنما داغ قرار دیا ہے۔