ناگپور کے مختلف بس اسٹاپس کے تعلق سے اخباری رپورٹ پڑھنے کے بعد بامبے ہائی کورٹ کا سوموٹو۔
مسافروں کے سر پر چھت تو ہو!-تصویر:آئی این این
ناگپور کے مختلف بس اسٹینڈ اور بس اسٹاپوں پر چھت نہ ہونے کی وجہ سے بارش اور دھوپ کے وقت مسافروں کو ہونے والی پریشانی سے متعلق شائع ہونے والی خبروں پربامبے ہائی کورٹ نے سو موٹو لیتے ہوئے اس معاملے کی سماعت کی اور شہری انتظامیہ کی سرزنش کی ۔ کورٹ نے مسافروں کو دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھنے کیلئے ۴؍ ماہ میں بس اسٹاپ پر انتظامات کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔
جسٹس انل کلور اور جسٹس راج وکوڈے پر مشتمل بنچ نے ناگپور کے میڈیکل اسکوائر ، کریڈا اسکوائر اسٹریچ ، راشٹریہ سنت ٹوکڑوجی مہاراج روڈ اور دیگر علاقوں میں موجود بس اسٹاپ مسافروں کو بیٹھنے کی سہولت اورچھتوں کے نہ ہونے کی خبروں کا جائزہ لینے کے بعد از خود اس معاملہ میں شنوائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ ناگپور کے مختلف علاقوں میں موجود اکثر و بیشتر بس اسٹاپس پر مسافروں کو انتظامیہ کی لاپروائی کے سبب گھنٹوں دھوپ میں کھڑے ہو کر بس کا انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ ان میں بزرگ شہریوں کے علاوہ خواتین، طلبہ اور مزدوربھی شامل ہیں ۔نیز اکثر و بیشتر بس اسٹینڈ پر غیر قانونی قبضہ جات کے سبب بھی مسافروں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کورٹ نے اس ضمن میں حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’ بسوں میں مسافروں کو بس اسٹاپ پر چھت اور سیٹ فراہم نہ کرنا، ان کے وقار کو مجروح کرنے کے مصداق ہے اور مسافروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے ۔‘‘تاہم دو رکنی بنچ نے بیسٹ اور ناگپور شہری انتظامیہ کو ۴؍ ماہ میں ان تمام بس اسٹینڈ پر چھت اور سیٹ نصب کرنے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ دیکھنا یہ ہے انتظامیہ اس حکم پر کب تک عمل کرتا ہے۔