نائر اسپتال کے مردہ خانہمیں بھی جگہ کی قلت ، لاشیں حاصل کرنے میں تاخیر

Updated: May 02, 2021, 10:43 AM IST | saadat khan | Mumbai

اسپتال میں سنیچر کو صبح ۱۲؍بجے تک ۸؍مریضوں کی موت ہوئی ، اب مردہ خانے میں جگہ نہ ہونے سے پورا سسٹم متاثر ہورہا ہے اور ضروری کارروائیوں میں رکاوٹ کھڑی ہورہی ہےجس سے متعلقین کو لاشیں تاخیر سے مل رہی ہیں

Nair Hospital>picture:Midday
نائر اسپتال تصویر مڈڈے

کوروناوائرس کی وجہ سے ہونےوالی اموات میں اضافہ کے سبب اسپتالوں کے مردہ خانوں میں جگہ نہ ہونے سے اب متعلقین کو لاشیں بھی تاخیر سے مل رہی  ہیںجس سے رشتہ داروں کو ایک عجیب ذہنی کرب سے گزرنا پڑرہا ہے۔ کوروناوائرس کے مریضوںمیں ہونے والے اضافہ سے اسپتالوںمیں ہونےوالی اموات کی شرح بڑھ گئی ہے جس سےاسپتال کے مردہ خانوں پر بھی دبائو بڑھ گیاہے۔ جس کی ایک مثال نائر اسپتال کا مردہ خانہ ہے ۔ حالانکہ دیگر اسپتالوںکا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے مگر نائر اسپتال میں ۸۰؍تا۹۰؍فیصد کووِڈ کے مریض زیر علاج ہیں۔اس لئے یہاں کوروناوائرس سے ہونےوالی اموات کی شرح دیگر اسپتالوںسے زیادہ ہے۔ نائر اسپتال میں صرف سنیچر کو صبح ۱۲؍بجے تک ۸؍اموات ہوئی تھیں ۔سنگین مسئلہ یہ ہےکہ  مردہ خانے میں جگہ نہ ہونے سے پورا سسٹم متاثر ہورہا ہے  اور ضروری کارروائیوں میں رکاوٹ کھڑی ہورہی ہےجس سے متعلقین کو لاش تاخیر سے مل رہی ہے ۔متعلقین  اس سے ناراض بھی ہیں  اورذہنی کرب سے بھی دوچار ہیں۔ مردہ خانےمیں جگہ کی قلت سے لاش کو وارڈ میں ہی ۲؍کے بجائے ۴؍تا۵؍گھنٹہ رکھا جارہاہے ۔ سنیچر کو ماہم کی فیملی کے ایک رکن کی لاش ملنے میں ہونے والی تاخیر کےسبب متعلقین نے  اسپتال والوںپر سماجی اور سیاسی نمائندوںکا دبائو ڈالا تھا ۔جس سے پریشان ہوکر ریسیڈنٹ ڈاکٹروںنے ہڑتال پر جانے تک کی دھمکی دے دی تھی۔اس لئے نائر اسپتال کے وارڈ میں مریضوں کے رشتے داروںاور متعلقین کو جانے سے منع کیاجارہاہے۔  
 ماہم کے محمد علی نے بتایاکہ ’’میرے ماموں محمد اقبال (۶۷)کی کوروناوائرس کی رپورٹ نگیٹیو آئی ہے۔اس کے باوجود ان کی لاش دینےمیں کیو ں تاخیر کی گئی یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔سنیچر کی صبح ۱۲؍بجے ان کا انتقال ہواتھالیکن لاش ملنے میں تاخیر ہونے سے ہم نے اپنے طورپرکچھ سیاسی اورسماجی نمائندوں سے درخواست کی تھی کہ لاش جلد ازجلد ہمارے حوالے کردی جائے تاکہ ہم تجہیز وتکفین کرسکیں، اس کےباوجود ہمیں لاش شام ۵؍بجے تک نہیں ملی تھی۔ اس تاخیر کی وجہ کیاہے یہ توہم نہیں جانتے مگر لاش حاصل کرنےمیں ہمیں دشواریوںکا سامنا کرناپڑا۔
  میڈیکل سوشل ورکر شعیب ہاشمی نے انقلاب کوبتایاکہ ’’ نائر اسپتال میں کوروناوائرس کے ۸۰؍تا ۹۰؍فیصد مریض زیر علاج ہیں۔ جس کی وجہ سے اسپتال میں اموات کی شرح بڑھ گئی ہے ۔ صرف سنیچر کی صبح ۱۲؍بجے تک ۸؍اموات ہوئی تھیں ۔ جس کی وجہ سے مردہ خانےمیں جگہ نہ ہونے سے عموماً جو لاش وارڈ میں ۲؍گھنٹے رکھی جاتی ہے اسے ۴؍تا ۵؍گھنٹہ رکھا جارہاہے ۔ جس سے متوفی کےمتعلقین کو لاش ملنےمیں تاخیر ہورہی ہے ۔ ‘‘
 ایک سوال کے جواب میں شعیب ہاشمی نے بتایاکہ ’’دیگر اسپتالوںکےمردہ خانوںپر بھی لاشوںکادبائو ہے مگر نائر اسپتال میںکووڈ کے مریض زیادہ ہیں اور اموات بھی زیادہ ہورہی ہے اس لئے یہاں کے مردہ خانے میں جگہ نہ ہونے سے متوفی کے رشتے داروںکو لاش ملنےمیں تاخیر ہورہی ہے۔‘‘
  نائر اسپتال کی ایک سینئر ڈاکٹر نے کہاکہ ’’نائراسپتال کے مردہ خانے کی گنجائش سے زیادہ اموات ہونے سے یہ مسئلہ ہورہاہے۔صرف سنیچر کی صبح ۱۲؍بجے تک ۸؍ مریضوں کی موت ہوئی۔
 مردہ خانے میں دیگر لاشوںکے پہلے سے موجود ہونےکے سبب کچھ لاشوںکو وارڈمیں ہی ۲؍کے بجائے۴؍تا ۵؍گھنٹہ رکھا جارہاہے۔جس کی وجہ سے مریضوں کے رشتے داروں کو لاش ملنےمیں تاخیر ہورہی ہے لیکن کچھ لوگ لاش کیلئے سماجی اور سیاسی لیڈران  کے ذریعے ڈاکٹروںپر دبائو ڈالنے کی کوشش کرتےہیں جس سے ریسیڈنٹ ڈاکٹر پریشان ہوجاتےہیں۔
  سنیچر کو بھی اسی وجہ سے ریسیڈنٹ ڈاکٹروںنے ہڑتال کرنے کی دھمکی بھی دی تھی ۔اس لئے مریضوںکےرشتے داروںاور عزیزوںکو وارڈ میں جانے سےمنع کیاجاتاہے۔‘‘        

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK