Updated: November 19, 2025, 10:37 PM IST
| Nagpur
ناگپور ضلع میں لاڈلی بہن اسکیم سے فائدہ اٹھانے والی ۹۵؍ ہزارخواتین مشکل میں ہیں۔ نا اہل قرار دی گئی ان خواتین کو ہر ماہ ملنے والی ۱۵۰۰؍ روپے کی رقم روک دی گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ وومن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کو یہ فہرست موصول ہوئی ہے اور ڈپارٹمنٹ نے اس کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔
کیا لاڈلی بہن اسکیم صرف الیکشن کیلئے تھی؟
ناگپور ضلع میں لاڈلی بہن اسکیم سے فائدہ اٹھانے والی ۹۵؍ ہزارخواتین مشکل میں ہیں۔ نا اہل قرار دی گئی ان خواتین کو ہر ماہ ملنے والی ۱۵۰۰؍ روپے کی رقم روک دی گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ وومن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کو یہ فہرست موصول ہوئی ہے اور ڈپارٹمنٹ نے اس کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔
یاد رہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل ریاستی حکومت نے یہ اسکیم خواتین کو مالی آزادی فراہم کرنے، ان کی صحت اور غذائیت کو بہتر بنانے اور خاندان میں ان کے فیصلہ کن کردار کو مضبوط بنانے کیلئے شروع کی تھی۔ کہتے ہیں کہ اس اسکیم کی بنیاد پر ہی مہایوتی کو اسمبلی الیکشن میں واضح اکثریت حاصل ہوئی۔ تاہم اب اس اسکیم کے اہل اور نا اہل استفادہ کنندگان کا سروے شروع کر دیا گیا ہے۔ کون اہل ہے اور کون نااہل اس کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ ان میں سے ۸؍ہزار خواتین نااہل پائی گئی ہیں۔ باقی درخواستوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ڈسٹرکٹ ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ آفیسر سنیل میسرے نے بتایا کہ جن لوگوں کے نام مالی حالت بہتر ہونے کے باوجود فہرست میں شامل تھے ان کی معلومات ریاستی حکومت کو دی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ای کے وائی سی کرنے کی آخری تاریخ اب ۳۱؍دسمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ لاڈلی بہن اسکیم سے ۲۱؍تا ۶۵؍ سال عمر کی خواتین کو فائدہ پہنچانا تھا جن کی سالانہ خاندانی آمدنی ڈھائی لاکھ روپے سے کم ہو۔ تاہم اسی معاملے میں گڑ بڑ ہوئی۔ بینک اکاؤنٹ کو آدھار کارڈ اور پین کارڈ سے منسلک ہونا چاہئے تھا۔ یا محکمہ انکم ٹیکس کو پین کارڈ پر مالی لین دین کی جانچ کرنی چاہئے تھی، درخواست کو منظور کرتے وقت اسے دیکھا جانا چاہئے تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس اسکیم کا فائدہ مردوں نے بھی اٹھایا ہے، اس کے علاوہ یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ وہ خواتین جو سرکاری ملازم ہیں، جو سنجے گاندھی نیرادھار یوجنا کی استفادہ کنندگان ہیں اور ۶۵؍ سال سے زیادہ عمر کی ہیں انہوں نے بھی اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا۔ ایک خاندان سے صرف ایک ہی خاتون کو فائدہ ملنا تھا، لیکن اس اصول کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔ اسکیم میں طے شدہ اصولوں کو سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت تھی۔