وزیر جنگلات گنیش نائیک کا ایوان میں سنسنی خیز بیان، کہا ’حکومت نے کئی اسکیمیں جاری کی ہیں لیکن ہمیں قرض لینے کیلئے کہہ رہی ہے‘‘
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 1:06 AM IST | Mumbai
وزیر جنگلات گنیش نائیک کا ایوان میں سنسنی خیز بیان، کہا ’حکومت نے کئی اسکیمیں جاری کی ہیں لیکن ہمیں قرض لینے کیلئے کہہ رہی ہے‘‘
بات کئی بار کہی جا چکی ہے کہ مہایوتی حکومت کی ’لاڈلی بہن اسکیم‘ کے سبب کابینہ کے دیگر محکموں کے بجٹ پر اثر پڑ رہا ہے کیونکہ ریاستی قیادت اسکیم کو ہر حال میں جاری رکھنے کی کوشش میں ان محکموں کا بجٹ لاڈلی بہن اسکیم ( وزارت برائے بہبودی ٔ خواتین واطفال ) کو دیدیتی ہے۔ اس سے قبل یہ شکایت شیوسینا (شندے) سے تعلق رکھنے والے وزیر برائے انصاف سنجے شرساٹ لگایا تھا لیکن اب خود بی جے پی کے وزیر گنیش نائیک نے یہ بات دہرائی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ گنیش نائیک نے ایوان میں ایک سوال کے جواب یہ بات کہی ہے۔
یاد رہے کہ ۲۰۲۴ء کے اسمبلی الیکشن سے قبل اس وقت کی ایکناتھ شندے کی قیادت والی مہا یوتی حکومت نے لاڈلی بہن اسکیم نافذ کی تھی جسکے تحت ریاست کی ضرورت مند خواتین کو ہر ماہ ۱۵۰۰؍ روپے دیئے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسمبلی الیکشن میں مہا یوتی کی غیر معمولی جیت کا سبب یہی لاڈلی بہن اسکیم تھی۔ لہٰذا حکومت اسے کسی بھی طرح بند نہیں کرنا چاہتی لیکن اسکی وجہ سے ہر سال ہزاروں کروڑ روپے حکومت کو خرچ کرنے پڑتے ہیں اور فنڈ کم پڑنے پر حکومت دیگر محکموں کی رقم وزارت برائے بہبودیٔ خواتین واطفال کومنتقل کر دیتی ہے۔اس تعلق سے مہایوتی میں شامل شیوسینا (شندے) کے سنجے شرساٹ پہلے ہی شکایت کر چکے ہیں اب وزیر برائے جنگلات گنیش نائیک نے بھی یہی بات دہرائی ہے۔ گنیش نائیک ایوان میں کانگریس رکن اسمبلی ستیج پاٹل کے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔
ستیج پاٹل نے سوال کیا تھا کہ ’’ میری معلومات کے مطابق ریاست میں زیادہ تر آدیواسیوں او ر دھنگروں کی بستیاں جنگلات میں واقع ہیں۔ اور حکومت ان بستیوں تک جانے والی سڑکیں تعمیر کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ حکومت گائوں کو شہروں سے جوڑنے کیلئے راستےبنائے گی تو کیا ان آدیواسی اور دھنگر بستیوں کیلئے راستے نہیں بنائے جا سکتے؟‘‘ انہوں نے حوالہ دیا کہ ’’ کل ہی خبر آئی تھی کہ بستی میں راستہ نہ ہونے کی وجہ سے ایک مریض کو ۳؍ کلو میٹر تک کندھے پر لے جانا پڑا تھا۔ اس تعلق سے محکمہ جنگلات ذمہ داری قبول کرکے کوئی اقدام کر سکتی ہے؟‘‘
اس سوال کے جواب میں گنیش نائیک نے کہا ’’فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف مہاراشٹر نے ریاست میں ساگ کے درخت لگائے ہیں جو کٹائی کیلئے تیار ہیں ۔ ان کی قیمت ۱۲؍ ہزار کروڑ روپے ہے مگر(فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے) ان کی کٹائی رکی ہوئی ہے ۔‘‘ وزیر جنگلات کا کہنا ہے کہ ’’ گزشتہ سال بھر میں حکومت نے کئی اسکیمیں شروع کی ہیں۔ ان میں لاڈلی بہن اسکیم بھی ہے ۔ لاڈلی بہن اسکیم تو دیگر محکموں کے ساتھ نا انصافی کرنے والی اسکیم ہے۔ لیکن اگر ایسا ہے بھی تو لاڈلی بہن اسکیم بند نہیں ہوگی۔ ‘‘ آگے انہوں نے کہا ’’ہم سے کہا گیا ہے کہ ان ۱۲؍ ہزار کروڑ کی ساگ کی پیداوار کے عوض بینک سے ۶؍ ہزار کروڑ روپے کا قرض لے لیجئے۔ اگر محکمہ جنگلات کو ۶؍ ہزار کروڑ روپے ملتے ہیں تو سبز پہاڑیوں، ست رنگی پہاڑیوں، خوشبو دار سڑکوں اور محکمہ جنگلات کے ملازمین کی تنخواہوں کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ن بستیوں کی سڑکوں کیلئے ضرور کوشش کی جائے گی لیکنان پروجیکٹوں ( سڑک کی تعمیر) کے سبب اگر قدرتی وسائل کو وہاں سے ہٹایا گیا تو کوئی تنازع نہیں ہونا چاہئے۔ اس کیلئے مقامی لوگوں کو کاشتکاری کے متبادل ذرائع فراہم کرنے ہوں گے۔‘‘