کلاسیس میں پڑھانے والا پروفیسر ڈیویژنل بورڈ کا ممبر رہ چکا تھا اور پرچہ تیار کرنے کا کام بھی کر چکا تھا۔
ناگپور میں ایک کے بعد ۳؍ پیپر لیک ہوئے تھے۔ تصویر:آئی این این
ناگپور میں گزشتہ دنوںا یچ ایس سی کے ایک کے بعد ۳؍ پرچے لیک ہوئے تھے۔اب اس معاملے میں ایک حیران کن انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کی تفتیش میں پایا گیا کہ ۲۵؍جنوری کو ناگپور ضلع کے عمریڈ شہر میں ’ٹارگیٹ اکیڈمی آف سائنس‘ میں ۱۲؍ ویںکے طلبہ کیلئے پریکٹس ٹیسٹ میں استعمال کیا گیا کیمسٹری کا پرچہ ۱۸؍فروری کو بورڈ کے ذریعہ جاری کئے گئے سوالیہ پرچے کہ مماثل تھا۔ اس انکشاف کے بعد، پولیس نے ٹارگیٹ اکیڈمی کے ڈائریکٹر، اتل چودھری اور ریٹائرڈ پروفیسر ستیش کرچے کو گرفتار کیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پروفیسر ستیش کرچے ملازمت کے دوران مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کے ڈیویژنل بورڈ کا ممبر تھا۔ اُس وقت ستیش کرچے کو بورڈ نے بارہویں جماعت کے سوالیہ پرچے تیار کرنے کیلئے بھی مقرر کیا تھا۔
اطلاع کے مطابق پروفیسر کرچے اور ٹارگیٹ اکیڈمی کے ڈائریکٹر اتل چودھری کئی سال سے رابطے میں ہیں۔ تفتیش میں یہ بھی معلومات سامنے آئی ہے کہ اتل چودھری کو ۲۰۲۳ میں بورڈ کیلئے پروفیسر کرچے کا تیار کردہ کیمسٹری کا سوالیہ پرچہ ملا، جو اس وقت استعمال نہیں ہوا تھا۔ پولیس کے سامنے یہ سوال ہے کہ ۲۰۲۳ء میں تیار کئے گئے لیکن اس وقت استعمال نہ ہونے والے کیمسٹری کے سوالیہ پرچے کے کچھ سوالات ۲۰۲۶ میں اگر استعمال ہوئے ہیں تو یہ خفیہ معلومات باہر کیسے آئیں؟ جس کا جواب فی الحال کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ قیاس کیا جارہا ہے کہ پروفیسر ستیش کرچے سے کڑی پوچھ تاچھ کے بعد کئی انکشافات ہوسکتے ہیں۔ ممکن ہے پولیس اس معاملے میں مزید لوگوں کو گرفتار کرے ، فی الحال تحقیقات جاری ہے۔