Inquilab Logo Happiest Places to Work

چوری کی وارداتوں سے پریشان گاؤں والے خود پہرہ دینے پر مجبور

Updated: September 10, 2024, 12:58 PM IST | Agency | Lakhimpur Kheri

گاؤں والے رات ۹؍ بجے سےصبح ۳؍بجے تک پہرہ دیتے ہیں۔ آدھار کارڈ دیکھنے کے بعد ہی کسی کو گاؤں میں داخل ہونے دیتےہیں۔

Villagers stand guard at Rehwa Seswara in Lakhim Purkheri. Photo: INN
لکھیم پورکھیری کے ریہوا سیسوارہ میں گاؤں والے پہرہ دیتےہوئے۔ تصویر : آئی این این

لکھیم پور کھیری کے مہیوا گنج علاقے میں چوری کی وارداتوں سے پریشان گاؤں والے اب خود پہرہ دے رہے ہیں۔ سب سے پہلے وہ آدھار کارڈ دیکھتے ہیں، اس کے بعد ہی کسی کو گاؤں میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔ ریہوا سیسوارہ کے۸۴؍ افراد پر مشتمل نگرانی ٹیم تیار کی گئی ہے جس میں ہر گھر کا ایک فرد شامل ہے۔ ہر کسی کےپاس لاٹھی، موبائل اور ٹارچ رہتی ہے۔ گاؤں والوں  نے ۶؍ ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ہر ٹیم میں ۱۴؍اراکین پر مشتمل ہے۔ رات میں ان ٹیموں کا کھیتوں، کھلیانوں، گلیوں، چوراہوں اور جنگلوں میں گشت جاری رہتاہے۔ اجنبی اور باہر والوں کو ان کی مکمل شناخت کے بعد ہی گاؤں میں داخل ہونے دیا جاتا ہے۔ یشپال اس مہم کےسربراہ ہیں۔ پرتاپ سنگھ، نول، جے پرکاش، رام پراویش، کشور اور رام چندر نے بتایا کہ شام کا کھانا اور گھریلو کام ختم کرنے کے بعد ٹیمیں رات۹؍ بجے سے صبح۳؍ بجے تک گشت کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:مظفر نگر کی ہندواکثریتی’ بھارتیہ کالونی‘ میں مسلمان کے مکان خرید نے پر ہنگامہ

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ چاہے کوئی وردی میں ہوں یا عام لباس میں، سب کو روک کر پوچھ گچھ کی جاتی ہے اور آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ گاؤں والوں نے بتایا کہ تین دن پہلے دیر رات گلاری پوروا میں جنگل کے قریب کچھ مشکوک افراد کی آواز سنائی دی۔ ٹارچ لائٹ جلی تو وہ جنگل میں  غائب ہو گئے۔ پہرہ دینے کے بعد سے کوئی نظر نہیں آرہا ہے۔
 سی او سٹی رمیش چندر تیواری نے بتایاکہ چوری کی واردات کو بے نقاب کرنے کیلئے ٹیمیں مامور کی گئی ہیں۔ جلدہی چوروں کو گرفتار کیا جائے گا۔ گاؤں والوں کی طرف سے پہرہ داری کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK