آر جےڈی کے ۳۰؍ویں یوم تاسیس پرپارٹی سربراہ کا کارکنوں کو پیغام، لالو نے آر جے ڈی کو صرف ایک پارٹی نہیں بلکہ تحریک قراریا۔
EPAPER
Updated: July 06, 2026, 4:24 PM IST | Patna
آر جےڈی کے ۳۰؍ویں یوم تاسیس پرپارٹی سربراہ کا کارکنوں کو پیغام، لالو نے آر جے ڈی کو صرف ایک پارٹی نہیں بلکہ تحریک قراریا۔
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو نے پارٹی کے تیسویں یومِ تاسیس کے موقع پر مرکز کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمجھوتہ کر چکے آئینی ادارے، بازار کی بڑھتی ہوئی بالادستی، دولت کے بے لگام استعمال اور دائیں بازو کی سیاست کے بڑھتے ہوئے اثرات نے ملک کی جمہوریت کی بنیادوں کے سامنے سنگین چیلنج کھڑے کر دیے ہیں۔ لالو پرساد یادو نے عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ اس وقت ملک کی متعدد جمہوری، ترقی پسند، سوشلسٹ اور آئینی قوتیں ایک مشکل دور سے گزر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں جہاں دولت کی طاقت صرف ووٹروں کو متاثر کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ منتخب عوامی نمائندوں کو بھی خریدنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، جو جمہوری نظام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نے پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ سماجی انصاف کی نئی لڑائی کیلئے پوری طرح تیار رہیں۔
انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی نمائندگی، تعلیم اور روزگار میں مساوی مواقع، اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ اور حکومت کی ناکامیوں جیسے اہم عوامی مسائل کو آج کل مبینہ طور پر ہندوتوا کی آڑ میں چھپایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رجحان کے باعث بنیادی عوامی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں اور سیاسی بحث کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لالو پرساد یادو نے کہا کہ۵؍ جولائی ۱۹۹۷ء کو راشٹریہ جنتا دل کی بنیاد غریبوں، محروموں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے حقوق اور عزت کے تحفظ کے مقصد سے رکھی گئی تھی۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک سیاسی جماعت کا قیام نہیں تھا بلکہ اس نے بہار اور پورے ہندوستان کی سیاست کی سمت اور انداز کو متاثر کیا۔ انہوں نے پارٹی کے تمام رہنماؤں، کارکنوں اور حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ راشٹریہ جنتا دل نے ہمیشہ غریبوں، کمزوروں، محروموں اور مظلوم طبقات کی آواز بلند کی ہے اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں بھی سماجی و معاشی عدم مساوات اور فرقہ واریت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ریاست کے مختلف مقامات پر بارش، درخت گرے، سڑکیں زیرآب
لالو پرساد یادو نے کہا کہ ان کی جماعت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ سماج کے سب سے غریب اور محروم افراد کو ترقی کے ہر شعبے میں مساوی حصہ اور بامعنی نمائندگی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ رام منوہر لوہیا، جے پرکاش نارائن، کرپوری ٹھاکر اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے نظریات سے وابستگی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں معاشی اور ذہنی بااختیاری کی جدوجہد مکمل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہی نظریاتی وراثت راشٹریہ جنتا دل کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حالات میں اگر کوئی سیاسی جماعت ضرورت مند طبقات کی امیدوں پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو وہ راشٹریہ جنتا دل ہے۔
لالو اور رابڑی کی زیڈ پلس سیکوریٹی بحال
بہار کی حکومت نے آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو اور ان کی اہلیہ رابڑی دیوی کی زیڈ پلس سیکوریٹی بحال کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے اور بلٹ پروف گاڑیوں کی سہولت بھی بحال کردی گئی ہے۔ اس سے پہلے۴؍ جون کو بہار حکومت کے ہوم ڈپارٹمنٹ نے آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد اور سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کی زیڈ پلس سیکوریٹی واپس لے لی تھی۔ تاہم چونکہ دونوں سابق وزرائے اعلیٰ ہیں، انہیں قانونی دفعات کے تحت ایس ایس جی سیکوریٹی فراہم کی گئی مگرلالو خاندان نے اپنی سرکاری سیکوریٹی واپس کر دی تھی۔ تاہم بہار حکومت کے حکم کے بعد ایک تنازع کھڑا ہو گیا تھا جس نے خاندان کو اپنی حفاظتی عملے سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا تھا، اب ریاستی سیکوریٹی کمیٹی کی سفارش پر زیڈ پلس سیکوریٹی پھر بحال کردی گئی ہے۔