ہندوستان کے مختلف علاقوں میں موسمی شدت میں نمایاں تبدیلیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں صرف موسم تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات انسانی زندگی کے سماجی، معاشی اور دیگر پہلوؤں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیاں خواتین کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہیں اور وہی ان کے تدارک میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
گریٹا تھنبرگ کم عمری ہی سے ماحولیات کے تحفظ کیلئے کوشاں ہیں، ان کی قیادت سے کئی نوجوان متحرک ہوئے ہیں۔ تصویر: آئی این این
ماحولیاتی تبدیلی موجودہ دور کا نہایت سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ اس وقت برصغیر خصوصاً ال نینو (El Nino) کے اثرات سے گزر رہا ہے، جس کے باعث درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں موسمی شدت میں نمایاں تبدیلیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں صرف موسم تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات انسانی زندگی کے سماجی، معاشی اور دیگر پہلوؤں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں خواتین کا کردار نہایت اہم اور دوہرا ہے؛ ایک طرف وہ اس مشکل وقت سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور دوسری طرف اس کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں:
ماحولیاتی تبدیلی کے خواتین پر اثرات:
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ماحولیاتی آفات جیسے سیلاب، قحط اور شدید گرمی کی لہریں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں معاشی اور سماجی ناہمواریاں شامل ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں خواتین کی بڑی تعداد زراعت اور قدرتی وسائل پر انحصار کرتی ہے، جو براہ راست موسمی تبدیلیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔
گھریلو ذمہ داریوں کے باعث بھی خواتین کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پانی لانا، ایندھن جمع کرنا اور خوراک کا انتظام جیسے کام عموماً خواتین کے سپرد ہوتے ہیں۔ اس صورت میں انہیں ان کاموں کیلئے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی صحت اور تعلیم دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یہ تدابیر بارش کے موسم میں صحتمند رہنے میں مدد کرتی ہیں
مزید برآں، ماحولیاتی آفات کے دوران حاملہ خواتین اور بچیاں غذائی قلت اور بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتی ہیں، جو ایک اہم مسئلہ ہے۔
خواتین بطور محافظ:
خواتین کو قدرتی وسائل کے مؤثر منتظمین سمجھا جاتا ہے۔ گھریلو سطح پر پانی اور بجلی کی بچت، فضلے کے مناسب انتظام اور سادہ طرزِ زندگی کو اپنانے میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
دیہی خواتین کے پاس روایتی علم کا ایک وسیع خزانہ موجود ہوتا ہے، جس میں بیجوں کا تحفظ، جڑی بوٹیوں کا استعمال اور زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے کے طریقے شامل ہیں۔ یہ علم جدید ماحولیاتی سائنس کیلئے نہایت قیمتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کئی اہم ماحولیاتی تحریکیں خواتین کی قیادت میں پروان چڑھیں، جیسے چپکو تحریک، نربدا بچاؤ آندولن اور نودھانیہ تحریک۔ ان تحریکوں نے فطرت کے تحفظ کیلئے اجتماعی شعور کو بیدار کیا۔
قیادت اور فیصلہ سازی میں خواتین کا کردار:
جب خواتین کو ماحولیاتی پالیسی سازی میں شامل کیا جاتا ہے تو نتائج زیادہ مؤثر اور پائیدار ثابت ہوتے ہیں۔ مقامی سطح پر خواتین کی شمولیت سے صفائی، پانی کے انتظام اور وسائل کے بہتر استعمال کے منصوبے کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں خواتین زراعت اور مویشی پالنے میں بھی فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ بے وقت بارش یا خشک سالی کی صورت میں فصلوں کو بچانے، متبادل غذائی ذرائع تلاش کرنے اور مویشیوں کی دیکھ بھال ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ بیجوں کو محفوظ رکھنے اور پانی کے بہتر استعمال کے طریقے بھی اپناتی ہیں تاکہ ممکنہ نقصان کو کم کیا جاسکے۔
عالمی سطح پر بھی خواتین نے نمایاں قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ گریٹا تھنبرگ جیسی نوجوان کارکن نے دنیا بھر کے لوگوں، خصوصاً نوجوانوں کو ماحولیاتی انصاف کیلئے متحرک کیا۔
پائیدار ترقی کے حصول میں بھی خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔ وہ اپنے روزمرہ کے فیصلوں کے ذریعے ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دے سکتی ہیں، خصوصاً پلاسٹک اور یوز اینڈ تھرو اشیاء کے استعمال میں کمی لا کر۔
یہ بھی پڑھئے: اچھا مہمان بننا بھی کسی ہنر سے کم نہیں
حل اور سفارشات:
ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کیلئے خواتین کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
خواتین کی تعلیم اور آگاہی میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے جدید طریقے سیکھ سکیں۔
خواتین کسانوں کو مالی معاونت اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے تاکہ وہ ماحول دوست زراعت کو فروغ دے سکیں۔
حکومتی پالیسیوں میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے تجربات اور ضروریات کو مدنظر رکھا جا سکے۔
بھارت میں متعدد اہم ماحولیاتی قوانین موجود ہیں، مثلاً: ماحولیاتی تحفظ ایکٹ ۱۹۸۶ء، واٹر ایکٹ ۱۹۷۴ء، ایئر ایکٹ ۱۹۸۱ء، وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ ۱۹۷۲ء، فارسٹ کنزرویشن ایکٹ ۱۹۸۰ء، نیشنل گرین ٹریبونل ایکٹ ۲۰۱۰ء، بایولوجیکل ڈائیورسٹی ایکٹ ۲۰۰۲ء۔ علاوہ ازیں، پائیدار ترقی کے اہداف ۲۰۱۷ء بھی نہایت اہم ہیں۔ خواتین کو چاہئے کہ وہ ان قوانین کا مطالعہ کریں اور ان پر عمل درآمد میں فعال کردار ادا کریں۔ بلاشبہ خواتین ماحولیاتی تبدیلی کے حل کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔