• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی میں ایس آئی آر کے بعد بھی ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر ڈپلیکیٹ اندراجات موجود

Updated: October 20, 2026, 12:40 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Luckhnow

اپوزیشن جماعتوں کی شکایتوں کے بعداترپردیش الیکشن کمیشن کا اعتراف، ساتھ میں ڈھٹائی کا مظاہرہ بھی، کہا: فہرست کی درستگی کا عمل ابھی جاری ہے۔

UP Chief Electoral Officer Navdeep Rinwa. Photo: INN
یوپی کے چیف الیکٹورل آفیسر نودیپ رنوا۔ تصویر: آئی این این

اتر پردیش میں’ایس آئی آر‘ کے بعد بھی ڈپلیکیٹ اندراجات کا معاملہ سامنے آنے سے انتخابی فہرستوں کی درستگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر نو دیپ رنوا نے اعتراف کیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں دہرے اندراجات کا مسئلہ موجود ہے لیکن اس اعتراف کے ساتھ ڈھٹائی کا مظاہرہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ابھی کارروائی جاری ہے۔واضح رہے کہ سماجوادی پارٹی نے ۱۳؍ اکتوبر کوچیف الیکٹورل آفیسر کو میمورنڈم پیش کرکے ووٹر لسٹ میں دہرے اندراجات کا معاملہ اٹھایا تھا۔

چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کی جانب سے’ ایکس ‘پر وضاحتی بیان جاری کیا گیاہے جس کے مطابق، ایک ہی شخص کی جانب سے متعدد درخواستیں جمع کرائے جانے کی وجہ سے ایک سے زیادہ ووٹر شناختی کارڈ نمبر (EPIC) بننے کا مسئلہ طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کی نشاندہی اور روک تھام کیلئے وقتاً فوقتاً ڈپلیکیٹ اندراجات کی جانچ کی جاتی ہے۔ غورطلب ہے کہ سماجوادی پارٹی نے ۱۰۰؍ اسمبلی حلقوں میں دہرے نام ہونے کی شکایت کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:حکومت نے دافع کینسر کی ۱۳۷؍ ادویات پر تجارتی منافع۳۰؍ فیصد تک محدود کر دیا

پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ریاست کے اسمبلی حلقوں کی ووٹر لسٹوں کی جانچ کے دوران کئی مقامات پر ایک ہی شخص کا نام دو، تین اور بعض معاملات میں ۱۰؍مرتبہ تک درج پایا گیا۔پارٹی نے اپنے ۷؍ صفحات پر مشتمل میمورنڈم کے ساتھ بوتھ وار مثالیں اور دستاویزات بھی پیش کر کے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ان اندراجات کی جانچ کرکے غیر ضروری اور ڈپلیکیٹ ناموں کو ووٹر لسٹ سے ہٹایا جائے۔

یوپی الیکشن کمیشن کا کہنا ہےکہ سماجوادی پارٹی کی جانب سے ووٹرلسٹ میں ڈپلیکیٹ ووٹروں کی تعداد لاکھوں میں ہونے کا دعویٰ کیاگیا ہے،لیکن اتنی بڑی تعدادسے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔واضح رہے کہ  ۷؍ اکتوبر کو معروف فیکٹ چیکر محمد زبیر نے ’ایکس‘ پر ایک معاملہ اٹھایاتھا، جس میں ایک شخص کے نام پر متعدد ووٹر شناختی کارڈ بننے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایک ہی شخص کی جانب سے بار بار درخواستیں جمع کرائی جا رہی ہیں تو ’سسٹم‘درخواست جمع ہونے کے وقت ہی ان کی شناخت کیوں نہیں کر پاتا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK