• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تاریخ کا سب سے بڑا کرپٹو ہیک، شمالی کوریا پر بائنانس سے۳۶ء۶؍ ارب ڈالر چرانے کا الزام

Updated: October 30, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi

دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس پر سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً۳۶ء۶؍ ارب ڈالر مالیت کی ڈجیٹل کرنسی چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس بڑے سائبر حملے نے عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔

Bitcoin.Photo:INN
بٹ کوائن۔ تصویر:آئی این این

دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس  پر سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً۳۶ء۶؍  ارب ڈالر مالیت کی ڈجیٹل کرنسی چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس بڑے سائبر حملے نے عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے، جبکہ شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز کے گروپ پر اس کارروائی کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بلاک چین سیکوریٹی اور تحقیقاتی کمپنی ٹی آر ایم لیبز نے اپنی ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر اس حملے کا تعلق شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر  سے جوڑا ہے۔ ۲۹؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ہونے والے اس حملے میں بائنانس کے مختلف ڈجیٹل والٹس سے دس بلاک چین نیٹ ورکس کے ذریعے تقریباً۳۶ء۶؍  ارب ڈالر مالیت کے اثاثے نکال لیے گئے۔ ماہرین کے مطابق یہ کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری ہے، جس کی مالیت فروری  ۲۰۲۵ء میں بائی بٹ (Bybit) سے چوری ہونے والے ۵ء۱؍ارب ڈالر سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:اسرائیل: حکومت بنانے کیلئے اپوزیشن لیڈر یائر گولان کی منصورعباس سے ملاقات

ٹی آر ایم لیبز کی رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے تقریباً ۲۰؍ منٹ کے اندر بائنانس کے مختلف ڈیجیٹل والٹس سے بھاری مقدار میں کرپٹو کرنسی اپنے کنٹرول میں لے لی۔ یہ حملہ ۲۹؍ اکتوبر کی شام شروع ہوا، جس کے دوران ایتھیریم، بٹ کوائن، ٹیتھر، یو ایس ڈی سی اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کو نشانہ بنایا گیا۔تحقیقات کے مطابق چوری ہونے والے اثاثوں میں تقریباً ۷۹ء۳؍ ارب ڈالر مالیت کی ایتھیریم اور دیگر ٹوکنز، جبکہ تقریباً  ۴۷ء۱؍ ارب ڈالر مالیت کے بٹ کوائن شامل تھے۔ اس کے علاوہ ٹرون نیٹ ورک سے تقریباً  ۶۲۸؍ ملین ڈالر کے اثاثے اور ایکس آر پی نیٹ ورک سے تقریباً ۲۹۶؍ملین ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی بھی نکالی گئی۔ مجموعی طور پر دس بلاک چین نیٹ ورکس پر بائنانس کے والٹس سے تقریباً ۳۶ء۶؍ ارب ڈالر کے اثاثے منتقل کیے گئے۔ 
بلاک چین سیکوریٹی کمپنی ٹی آر ایم لیبز نے اس سائبر حملے کے پیچھے شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق حملے کے طریقہ کار، ڈجیٹل اثاثوں کی منتقلی اور فنڈز کو چھپانے کی حکمت عملی ماضی میں شمالی کوریا سے منسلک سائبر حملوں سے مماثلت رکھتی ہے۔یہ گروپ مبینہ طور پر شمالی کوریا کے بدنام زمانہ لازارس گروپ (Lazarus Group) سے وابستہ ہے، جس پر ماضی میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور کرپٹو کرنسی پلیٹ فارمز کو نشانہ بنانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ تاہم، یہ واضح رہے کہ بائنانس نے ابھی تک کسی مخصوص ملک یا ہیکنگ گروپ کو باضابطہ طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا ہے۔ ٹی آر ایم لیبز نے اپنے تجزیے کی بنیاد پر شمالی کوریا سے تعلق کا قوی امکان ظاہر کیا ہے، لیکن تحقیقات جاری ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:نادرہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں، مگر گھر کے معاشی حالات نے انہیں اداکارہ بنا دیا

بائنانس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق سائبر حملے میں کمپنی کے ایک ملازم یا کنٹریکٹر کے ڈویلپر لیپ ٹاپ کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہیکرز نے ممکنہ طور پر ایک ڈیو اوپس انجینئر کے لیپ ٹاپ تک رسائی حاصل کرکے کمپنی کے سروس انفراسٹرکچر میں مداخلت کی اور غیر مجاز ٹرانزیکشنز کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثے منتقل کیے۔ٹی آر ایم لیبز کی تکنیکی تحقیقات میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ہیکرز نے بائنانس کے ہاٹ والٹ   کے ٹرانزیکشن سائننگ سسٹم تک رسائی حاصل کرلی تھی۔ ہاٹ والٹ ایسا ڈیجیٹل والٹ ہوتا ہے جو انٹرنیٹ سے منسلک رہتا ہے اور ایکسچینج میں صارفین کی رقم کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق ہیکرز نے ایتھیریم کے جدید تکنیکی فیچر EIP-7702 کا استعمال کرتے ہوئے والٹ کے کنٹرول میں مداخلت کی اور پہلے سے تیار کردہ اجازت ناموں کے ذریعے بڑی تعداد میں ٹرانزیکشنز انجام دیں۔بائنانس نے متعدد بلاک چین نیٹ ورکس پر عارضی طور پر رقم نکالنے کی سہولت معطل کردی اور کہا کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ چوری سے ہونے والے تمام نقصانات کی ذمہ داری قبول کرے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK