جھارکھنڈ میں بھی ہجومی تشدد کیخلاف قانون

Updated: December 23, 2021, 8:11 AM IST | ranchi

اس کے تحت ہجومی تشدد میں ملوث افراد کو ۳؍ سال سے عمر قید تک کی سزا جبکہ ۲۵؍ لاکھ تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے، بی جے پی نے حسب معمول مخالفت کی

Jharkhand Chief Minister Hemant Soren took special interest in the law of aggression
جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ہجومی تشدد قانون میں خصوصی دلچسپی لی

 ہجومی تشدد کو لگام دینے اور اس مذموم عمل میں شامل خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے جھارکھنڈ اسمبلی  نے سرمائی اجلاس کے چوتھے دن    بی جے پی اراکین اسمبلی کی ہنگامہ آرائی کے درمیان جھارکھنڈ( بھیڑ تشدد اور بھیڑ لنچنگ روک تھام ) بل۲۰۲۱ء کو منظوری دے دی ہے ۔ اپوزیشن اراکین کی جانب سے بل کو سلیکٹ کمیٹی کو سونپنے اور کئی ترامیم کی بھی تجویز دی گئی جسے خارج کر دیا گیا ۔ واضح رہے کہ جھا رکھنڈ  مغربی بنگال اور راجستھان کے بعد ہجومی تشدد کیخلاف قانون بنانے والی ملک کی تیسری ریاست بن گئی ہے۔اس سے قبل ایوان میں کاغذات پھاڑنے سے ناراض اسمبلی اسپیکر نے ہزاری باغ کے بی جے پی رکن اسمبلی منیش جیسوال کو سرمائی سیشن کی  بقیہ  مدت کیلئے ایوان سے معطل کردیا ۔جیسوال کی معطلی کے بعد بی جے پی اراکین اسمبلی نے ایوان میں زبردست ہنگامہ کیا  لیکن اس دوران بل منظور ہو چکا تھا ۔ اب یہ بل گورنر کے دستخط کے لئے بھیجا جائے گا جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔ 
   جھار کھنڈ کا قانون اس لحاظ سے راجستھان اور بنگال سے بہتر  بتایا جارہا ہے کہ اس میں خاطیوں کو کم از کم ۳؍ سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا دی جاسکتی ہے جبکہ ان پر ۲۵؍ لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ بل میں متاثرین کی مدد اور انہیں قانونی مدد دلانے کے سلسلے میں بھی اہم شقیں شامل کی گئی ہیں ۔ ساتھ ہی ان کے تحفظ کا بھی خصوصی التزام رکھا گیا۔ متاثرین یا ان کے اہل خانہ کو مالی مدد دینے کا انتظام بھی اس قانون میں ہے جس کی وجہ سے سماجی سطح پر  اسے بہت جامع اور واضح قانون قرار دیا جارہا ہے۔
 جھارکھنڈ اسمبلی میں یہ بل پارلیمانی امور کے وزیر عالم گیر عالم نے پیش کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ یہ بل کسی بھی کمیونٹی کے خلاف یا کسی کمیونٹی کی موافقت میں نہیں لایا جارہا ہے بلکہ یہ ہجومی تشدد جیسے غیر انسانی  رجحان،جو ہمارے سماج میں تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے، کو ختم کرنے کے لئے لایا جارہا ہے اس لئے اس بل کی حمایت سبھی کریں ۔ ان کے اس بیان پر بی جے پی اراکین اسمبلی نے حسب معمول احتجاج شروع کردیا اور  جم کر ہنگامہ کرنے لگے ۔ اس دوران  بی جے پی اراکین نے ایوان میں کئی طرح کے کاغذات پھاڑ ڈالے اور ان کے ٹکڑے اڑائے۔ اس پر عالم گیر عالم نےسخت  اعتراض کیا۔ان کےساتھ ہی حزب اقتدار کے رکن اسمبلی پردیپ یادو نے بھی کاغذات پھاڑنے میں پیش پیش رہنے والے منیش جیسوال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر جو اس پورے ایپی سوڈ سے سخت نالاں تھے انہوں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے جیسوال کو پورے سیشن کے لئے معطل کردیا۔
  اس کے بعد  وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے بل پر گفتگو کا آغاز کیا اور کہا کہ یہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے ،  امن برقرار رکھنے اور ہجومی تشدد جیسے سنگین جرم کو قابو میں لانے کے لئے لایا گیا ہے اسی لئے سبھی اراکین بشمول اپوزیشن سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس کی حمایت کریں۔ اس اپیل کا بی جے پی اراکین پر کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ بی جے پی رکن اسمبلی سی پی سنگھ نے  کھڑے ہوکر کہا کہ موجودہ شکل میں یہ بل ہمیں نا منظور ہے۔ اگر سرکار اسے سلیکٹ کمیٹی میںبھیجے تو ہم اس پر غور کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن موجودہ حالت میں تو یہ صرف اور صرف ایک کمیونٹی کی خوشنودی کے لئے لایا گیا ہے۔ اس پر عالم گیر عالم نے  جواب دیا کہ یہ بل ہر کسی کے لئے فائدہ مند ہے کیوں کہ اس سے ریاست میں امن قائم رکھنے میں مدد ملے گی لیکن بی جے پی اراکین  نہیں مانے اور ہنگامہ کرنے لگے جس کے بعد  اسپیکر نے ووٹنگ کروائی اور بل کو صوتی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔  اس قانون کی منظوری کامولانا محمود مدنی نے  استقبال کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ قانون کے ذریعہ سماجی اور معاشی طور سے کمزور طبقات کے اندر اعتمادپیدا ہوگا اور  فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورقیا م امن میں مدد ملے گی۔

jharkhand Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK