اسپتال وسائل کی کمی کا سامنا کررہے ہیں۔ اسرائیل پر حزب اللہ نے راکٹ داغے، تل ابیب سمیت کئی علاقوں میں ہنگامی الرٹ۔
EPAPER
Updated: April 11, 2026, 10:47 AM IST | Beirut
اسپتال وسائل کی کمی کا سامنا کررہے ہیں۔ اسرائیل پر حزب اللہ نے راکٹ داغے، تل ابیب سمیت کئی علاقوں میں ہنگامی الرٹ۔
جنوبی لبنان میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں جمعہ کو ہونےو الے فضائی حملے میں ۶؍ افراد جاں بحق اورکئی زخمی ہو گئے۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے اطلاع دی ہے کہ نبیطیہ گورنری کے اقلیم الطفاح علاقے میں واقع جبعہ قصبے میں ایک کار واش کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں ۶؍ افراد ہلاک اورمتعددزخمی ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے لبنان کے کئی مقامات پر حملے کیے۔ جنوبی لبنانی کے شہر شوکین کے ایک گاؤں کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تازہ فضائی حملوں کے بعد گاؤں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ وہ علاقے میں ’دہشت گردوں ‘ کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فضائیہ نے لبنان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے حزب اللہ اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔ لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے کئی دیگر شہروں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ مکانات بھی تباہ ہوئے ہیں۔
دوسری جانب رات بھر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں جس کے دوران اسرائیل نے لبنان پر فضائی حملے کیے جبکہ مسلح گروہ کی جانب سے اسرائیل کی جانب راکٹ داغے گئے جس کے باعث تل ابیب سمیت کئی علاقوں میں ہنگامی الرٹس جاری کیے گئے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں لبنان کی مبینہ حیثیت تنازعہ کا باعث بن رہی ہے اور اس سے رواں ہفتے کے آخر میں پاکستان میں ہونے والے طے شدہ امن مذاکرات سے پہلے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے رات بھر لبنان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے اس کے مطابق حزب اللہ راکٹ داغ رہا تھا۔ دوسری جانب ایران کی حمایت یافتہ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کے متعدد علاقوں پر راکٹ فائر کیے ہیں۔ یہ تازہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیوں میں کمی لانے کا عندیہ دیا تھا۔ بدھ کے روز لبنان پراسرائیل کے حملوں میں ۳۰۰؍ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ناسا کا تاریخی مشن آرٹیمس دوم کامیاب، خلا باز بحفاظت زمین پر واپس، تاریخ رقم
بیروت میں اسپتال مشکلات کا شکار
یہاں کے اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ ضروری طبی سامان کی کمی کے باعث بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے جبکہ اسرائیلی حملے بیروت اور اس کے گرد و نواح کو تباہ کر رہے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جیسے ہی لبنان کے دارالحکومت پر بم برسنے لگے، سینکڑوں افراد امریکن یونیورسٹی آف بیروت ہاسپٹل کا رخ کرنے لگے، کئی لوگ رو رہے تھے اور خوفزدہ تھے۔ بچے اپنے بہن بھائیوں یا والدین کو تلاش کر رہے تھے، انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔
اے یو بی اسپتال میں ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں تقریباً۷۶؍ زخمی لائے گئے۔ بدقسمتی سے چھ افراد جانبر نہ ہو سکے۔ اسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر صلاح زین الدین نےبتایا کہ یہ اسپتال حملوں کے متاثرین کا ’مرکزی مرکز‘ بن گیا۔ ڈاکٹر زین الدین کے مطابق شدید زخمیوں میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔
ڈاکٹر ز وداؤٹ بارڈرس کے ایک طبی رابطہ کار نے رفیق حریری یونیورسٹی اسپتال میں بتایا کہ زخمی والدین اپنے بچوں کو پکار رہے تھے۔ خاندان بچوں کی تصاویر لے کر آ رہے تھے اور پوچھ رہے تھے کہ کیا کسی نے ان کے پیاروں کو دیکھا ہے؟‘‘بیروت کے مختلف اسپتالوں میں طبی عملہ تھکا ہوا ہونے کے باوجود کام جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔ لبنانی ریڈ کراس کے صدر ڈاکٹر انطوان زغبی نے کہا: ’’یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے، ایک ڈراؤنا خواب‘‘، اور وہ بار بار یہی الفاظ دہراتے رہے۔