آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے انتباہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز نہ کھلنے پر ایندھن کی قلت شدید خطرہ بن سکتی ہے،ساتھ ہی خبردار کیا کہ گرمیوں میں ترسیل معمول پر نہ آئی تو مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 5:25 PM IST | Washington
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے انتباہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز نہ کھلنے پر ایندھن کی قلت شدید خطرہ بن سکتی ہے،ساتھ ہی خبردار کیا کہ گرمیوں میں ترسیل معمول پر نہ آئی تو مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔
آئی ایم ایف، عالمی بینک اور آئی ای اے کے سربراہان نے جمعہ کو مشترکہ بیان میں کہا کہ عالمی تیل کے ذخائر تیز رفتاری سے کم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ترسیل معمول پر نہ آئی تو شمالی نصف کرہ میں گرمیوں کی انتہائی طلب سے پہلے ذخائر کی تیزی سے کمی ایندھن کی سلامتی، مارکیٹ کی صورتحال اور معاشی لچک کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن جائےگی۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ جنگ کی وجہ سے توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے ممالک پر پڑ رہا ہے، خاص طور پر جب کہ بہت سے ممالک میںفصل اگانے کا موسم شروع ہو رہا ہے۔ بعد ازاں آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا کہ جنگ نے عالمی نمو کی پیش گوئی میں کمی کی ہے اور کمزور معیشتوں کو۲۰؍ سے۵۰؍ بلین ڈالر کی مالی امداد کی ضرورت ہوگی۔ بنگلہ دیش نے بھی مالی امداد کی درخواست کی ہے۔
دریں اثناء اس جنگ کے دور رس اثرات خاص طور پر ان ممالک پر پڑے ہیں جو خلیج سے تیل اور گیس کی درآمد پر منحصر ہیں، جن میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے بیشتر ممالک شامل ہیں۔ کھاد کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے اور درآمدات پر منحصر ممالک شدید متاثر ہوئے ہیں، جہاں غذائی سلامتی ایک اہم مسئلہ ہے۔واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ نے مشرق وسطیٰ کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایران کے جوابی حملوں نے خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اور اہم آبی گزرگاہ کو عملاً بند کر دیا ہے جس سے معمول کے مطابق عالمی توانائی کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔جس کا نتیجہ ایندھن کے عالمی بحران کی شکل میں اب سامنے آنے لگا ہے۔