Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناسا کا تاریخی مشن آرٹیمس دوم کامیاب، خلا باز بحفاظت زمین پر واپس، تاریخ رقم

Updated: April 11, 2026, 10:10 AM IST | California

آرٹیمس دوم مشن کے خلا باز چاند کے گرد تاریخی سفر مکمل کر کے بحفاظت زمین پر واپس آ گئے، جس سے۵۰؍ سال بعد انسانوں کی چاند تک رسائی کا ایک نیا باب کھلا ہے۔ یہ مشن مستقبل میں چاند پر انسانوں کی دوبارہ لینڈنگ کی تیاری کیلئے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔

The Orion spacecraft landed in the Pacific Ocean off the coast of California. Photo: X
اورین خلائی جہازکیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اترا۔ تصویرـ : ایکس

ناسا کے آرٹیمس دوم کے خلا باز بحفاظت زمین پر واپس آ گئے ہیں، اور یوں ۵۰؍ سال سے زیادہ عرصے بعد چاند کے گرد چکر لگانے والے پہلے انسانی مشن کو کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ اورین خلائی جہاز جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق شام ۵؍ بجکر ۷؍ منٹ پر (00:07 جی ایم ٹی) کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اترا، جب اس نے زمین کے ماحول میں انتہائی تیز رفتاری سے دوبارہ داخلہ لیا۔ بچاؤ ٹیمیں پہلے سے موقع پر موجود تھیں اور انہوں نے تیزی سے کیپسول کو محفوظ بنا کر عملے کو نکال لیا۔ اس مشن میں ناسا کے خلا باز ریڈ وائزمن، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ شامل تھے، جبکہ ان کے ساتھ کنیڈا کے خلا باز جیریمی ہینسن بھی سوار تھے۔ ری انٹری سے چند منٹ پہلے، مشن کمانڈر وائزمن نے مشن کنٹرول کو پیغام دیا:’’ہم نے کھڑکی نمبر۲؍ سے چاند کا شاندار نظارہ کیا – کل کے مقابلے میں تھوڑا چھوٹا لگ رہا ہے۔ ‘‘ہیوسٹن سے جواب آیا: ’’لگتا ہے ہمیں دوبارہ جانا پڑے گا۔‘‘

یہ واپسی اورین خلائی جہاز کیلئے ایک اہم امتحان تھی، جسے لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیا ہے، تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ یہ چاند سے واپسی کے دوران انتہائی سخت حالات کو برداشت کر سکتا ہے۔ کیپسول نے۱۳؍ منٹ پر مشتمل ایک ڈرامائی نزول برداشت کیا، جس کے دوران وہ انتہائی تیز رفتاری سے فضا میں داخل ہوا۔ اس کے بیرونی حصے کا درجہ حرارت تقریباً۲؍۷۶۰؍ڈگری سینٹی گریڈ (۵؍ ہزارفارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا، جس سے ایک پلازما تہہ بنی اور کچھ دیر کیلئے خلا بازوں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ بعد میں رابطہ بحال ہوا جب پیراشوٹ کھلے، جنہوں نے رفتار کم کی اور اورین کو آہستہ سے سمندر میں اتار دیا۔ 

بچاؤ عملے نے بعد میں ہیچ کھول کر خلا بازوں کو باہر نکالا، جنہوں نے معمولی مواصلاتی مسائل کی اطلاع دی، مگر مجموعی طور پر وہ خیریت سے تھے۔ ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزک مین نے امریکی بحریہ کے ایک جہاز سے کہا:’’ہم دوبارہ چاند پر خلا باز بھیجنے، انہیں بحفاظت واپس لانے اور مزید مشنزکیلئے تیار ہیں۔ ‘‘
یاد رہے کہ یہ چاروں خلا باز تقریباً ایک ہفتہ قبل فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوئے تھے، اور ۱۰؍ دن کے سفر پر نکلے جو انہیں اپولو دور کے بعد سب سے زیادہ فاصلے تک لے گیا۔ انہوں نے چاند کے دور والے حصے کے گرد چکر لگایا، مستقبل کے مشنز کیلئے نظاموں کا تجربہ کیا، اور پھر زمین کی طرف واپسی اختیار کی۔ 

زمین کا ایک نیا زاویہ
آرٹیمس دوم کو مستقبل کے مون مشنزکیلئے ایک اہم آزمائش سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر آرٹیمس چہارم کیلئے، جس کا مقصد اپولو دور کے بعد پہلی بار انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنا ہے۔ انجینئرز اب اس مشن کے اہم ڈیٹا کا تجزیہ کریں گے، جن میں اورین کے ہیٹ شیلڈ کی کارکردگی، نیویگیشن سسٹمز، اور لائف سپورٹ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ یہ سب گہرے خلا میں انسانوں کی محفوظ سفرکیلئے ضروری ہیں۔ واپسی کے دوران سب سے مشکل مرحلوں میں سے ایک مختصر مواصلاتی بلیک آؤٹ بھی تھا، جو شدید حرارت کی وجہ سے پیدا ہوا۔ اس مشن نے کئی تاریخی کامیابیاں بھی حاصل کیں ۔ سفر کے دوران، عملے نے چاند کی سطح کی تفصیلات بیان کیں اور ایک شمسی گرہن اور شہابیوں کے ٹکراؤ کا بھی مشاہدہ کیا۔ 
مشن کمانڈر وائزمن نے کہا:’’ہم دل سے چاہتے تھے کہ دنیا ایک لمحے کیلئے رک جائےاور یاد رکھے کہ یہ ایک خوبصورت سیارہ ہے، جو کائنات میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے جو ہمیں ملی ہے۔ ‘‘ خلا بازوں کی روانگی کے بعد سے ہر صبح ناسا نے انہیں جگانے کیلئے ایک گانا بھیجا۔ جمعہ کو انہیں ’’رن ٹو دی واٹر‘‘ (بینڈ لائیو) اور’’فری‘‘ (زیک براؤن بینڈ) سنایا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب: تیل و گیس کی متعدد تنصیبات پر آپریشن روک دیا گیا

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آرٹیمس دوم کے عملے کو مبارکباد دی

ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ پر لکھا’’آرٹیمس دوم کے عظیم اور نہایت باصلاحیت عملے کو مبارکباد۔ پورا سفر شاندار تھا، لینڈنگ بہترین رہی اور بطور صدرِ امریکہ مجھے اس سے زیادہ فخر نہیں ہو سکتا! میں جلد ہی آپ سب سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کا منتظر ہوں۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK