اسرائیلی فوج نے ۱۰؍ منٹ میں ۱۰۰؍ سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا ، یاہو نے کہا لبنان میں حملے نہیں رکیں گے۔
بیروت میں اسرائیلی حملے میں تباہ عمارت کے ملبے میں دبے افراد کی تلاش کا منظر۔ تصویر:آئی این این
اسرائیل نے لبنان کے مختلف علاقوں میں بدھ کو شدید فضائی حملے کرتے ہوئے ۱۰؍ منٹ میں۱۰۰؍ سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا، جبکہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ان حملوں میں مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہواہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر۲۵۴؍ افراد شہید ہوئے ہیں اور ایک ہزار۶۲؍ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حملے لبنانی شہر طائر کو خالی کرنے کی دھمکی کے بعد کیے گئے، جس کے بعد مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں تیز کر دی گئیں۔ فوج نے کہا کہ حزب اللہ کے خلاف آپریشن سیاسی قیادت کی ہدایت پر جاری ہیں، جبکہ ایران پر حملے عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔ اسرائیل نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے میں لبنان شامل نہیں ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی حملوں میں لبنانی ساحلی شہر صیدا میں۸؍ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ دوسری جانب جوزف عون نے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان کو بھی جنگ بندی معاہدے میں شامل کیا جائے، اور کہا کہ اس حوالے سے انہیں کوئی باضابطہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اسرائیل کی ہٹ دھرمی
اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو قبول کر لیا ہے، تاہم حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے، تاہم اس معاہدے میں حزب اللہ کا ذکر شامل نہیں۔
لبنان میں ’جرم‘ پر اسرائیل کو ’سزا‘ دیں گے:ایرانی عہدیدار
ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایران، لبنان میں کیے گئے جرم اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں اسرائیل کو سزا دے گا۔عہدیدار نے کہا’’جنگ بندی پورے خطے پر لاگو ہوتی ہے، اور اسرائیل وعدے توڑنے کے لیے جانا جاتا ہے، اور اسے صرف طاقت کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔‘‘ فارس نیوز نے ایک نامعلوم فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایران اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب کی تیاری کر رہا ہے۔