اسرائیل کی جانب سے معاہدے کے باوجود لبنان پر حملوں کے سبب تہران سخت ناراض، تل ابیب پر قدغن لگانے کا مطالبہ ۔
EPAPER
Updated: June 21, 2026, 10:26 AM IST | Tehran
اسرائیل کی جانب سے معاہدے کے باوجود لبنان پر حملوں کے سبب تہران سخت ناراض، تل ابیب پر قدغن لگانے کا مطالبہ ۔
ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ پر دستخط بھلے ہی ہو گئے ہوں، لیکن اس کے بعد بھی حالات پوری طرح پُرامن نہیں ہوئے ہیں۔ امریکہ اور ایران دونوں ہی ممالک کے سرکردہ لیڈران اپنے بیانات کے ذریعہ ایک دوسرے کو ’زیر‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے اب تک لبنان پر حملے بند نہیں کئے ہیں جیسا کہ معاہدے میں درج کیا گیا تھا۔ اب ایران کی طرف سے یہ نیا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ ایک نیوز ایجنسی کی پیش کردہ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کو از سر نو بند کرنے کے پیچھے کی وجہ جنگ ختم کرنے والے معاہدہ (ایم او یو) کی امریکہ کے ذریعہ خلاف ورزی ہے۔ ، جنوبی لبنان سے فوج نہ ہٹانے اور اسرائیل کے ذریعہ مستقل جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔ ایران نے اسے پہلا قدم بتایا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر خلاف ورزی جاری رہی تو مزید سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے اس ہفتہ ایک مفاہمت کی عرضداشت (ایم او یو) پر دستخط کیا تھا، جس کے بعد آبنائے ہرمز کو پھر سے کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس دوران دعویٰ کیا گیا کہ آبنائے ہرمز سے ۷۰۰؍ تیل بردار جہاز گزر گئے ہیں لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ پر دستخط کے کچھ ہی گھنٹوں بعد سنیچر کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم ۷؍ لوگوں کی موت ہو گئی تھی، جن میں ۲؍ بچے بھی شامل تھے۔ ایسے حالات میں عالمی امور کے کئی ماہرین امن معاہدہ پر خطرہ منڈلانے کا اندیشہ ظاہر کر رہے تھے۔ اب ایران کے ذریعہ آبنائے ہرمز کو پھر سے بند کیا جانا پوری دنیا کیلئے تشویش کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی ریزروسٹ جنگی جرائم کی شکایت کے بعد ہندوستان سے فرار
یاد رہے کہ اسرائیل جس نے ایران جنگ چھیڑی تھی وہ امریکہ ایران معاہدے کا حصہ نہیں تھا۔ اس نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ وہ لبنان سے اپنی فوجیں نہیں ہٹائے گا جس پر ڈونالڈ ٹرمپ نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ ایک روز قبل ہی اسرائیل کسی طرح لبنان کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ ہوا تھا اور اس نے معاہدے پر دستخط بھی کئے تھے۔ اس کے بعد بھی اس نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنیچرکے روز لبنان پر بے درپے حملے کئے جس کے بعد معاملات پھر بگڑ گئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسےلبنان کی جانب سے حزب اللہ کے حملے کا خطرہ ہے۔ حالانکہ ایران اورامریکہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اس میں کئی اور بھی شقیں ہیں لیکن ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ معاہدے کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کی گئی تو ایران اس کا جواب دے گا۔ فی الحال یہ پہلا قدم ہے جو ایران نے اٹھایا ہے اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے ایک بار پھر تیل کی سپلائی دنیا بھر میں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب امریکہ اس تعلق سے کیا قدم اٹھاتا ہے۔